امریکا نے وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا۔ یہ پیش رفت نہایت تشویشناک ہے اور اس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
ان اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے پیش کیے گئے دلائل ناقابلِ قبول ہیں۔ عملی اور حقیقت پسندانہ سفارتی روابط کے بجائے نظریاتی دشمنی کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ اعتماد اور پیش بینی پر مبنی تعلقات قائم کرنے کی کسی بھی سنجیدہ کوشش کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
پاکستان میں روسی سفارت کے ترجمان کے مطابق، موجودہ صورتحال میں سب سے اہم امر یہ ہے کہ مزید کشیدگی کو روکا جائے اور مسئلے کے حل کے لیے مکالمے پر مبنی راستہ اختیار کیا جائے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ تمام فریقین، جن کے درمیان باہمی شکایات موجود ہیں، انہیں بات چیت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ہم ایسی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔
لاطینی امریکا کو ایک پُرامن خطہ رہنا چاہیے، جیسا کہ اس نے 2014 میں خود کو قرار دیا تھا۔ وینزویلا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی تباہ کن، خصوصاً فوجی، بیرونی مداخلت کے بغیر اپنی تقدیر کا خود تعین کرے۔
ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کی بولیویرین قیادت کی اس پالیسی کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد ملک کے قومی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔
ہم وینزویلا کی حکومت اور لاطینی امریکا کے رہنماؤں کے اُن بیانات کی بھی حمایت کرتے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
روس کا سفارت خانہ کاراکاس میں معمول کے مطابق کام کر رہا ہے، زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور وینزویلا کے حکام کے ساتھ ساتھ وہاں موجود روسی شہریوں سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔ فی الحال ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی کہ روسی فیڈریشن کا کوئی شہری زخمی ہوا ہو۔