ایران میں معاشی بے چینی پر احتجاج، بیرونی مداخلت کے خلاف سخت انتباہ

اسلام آ باد : ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق زرِ مبادلہ میں عارضی اتار چڑھاؤ سے متاثرہ شہریوں کی جانب سے پرامن احتجاج ایک آئینی اور قانونی حق ہے۔
سید عباس عراقچی نے اپنے x سابق ٹویٹر پر بیان میں واضح کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں چند الگ تھلگ پرتشدد واقعات بھی دیکھنے میں آئے، جن میں پولیس اسٹیشن پر حملہ اور پولیس اہلکاروں پر مولوتوف کاک ٹیل پھینکنے جیسے اقدامات شامل تھے۔ حکام نے کہا کہ سرکاری املاک پر حملے کسی بھی ملک میں ناقابلِ قبول ہوتے ہیں۔

امریکی بیانات پر ایران کا ردِعمل

ایران نے سابق امریکی صدر Donald Trump کے حالیہ بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
ایرانی موقف کے مطابق، امریکا میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے سابق فیصلوں کو دیکھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو بخوبی علم ہونا چاہیے کہ سرکاری اداروں پر حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے۔

خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں

بیان میں زور دیا گیا کہ ماضی کی طرح عوامِ ایران کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو سختی سے مسترد کریں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ایران اور عالمی سفارت کاری

ایران کے عالمی اداروں، خصوصاً United Nations، کے ساتھ تعلقات اور امریکا کے ساتھ کشیدہ سفارتی روابط خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان پیش رفتوں کو پاکستان میں بھی بغور دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، توانائی کی منڈیوں اور عالمی تعاون پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں صورتحال کا دارومدار سفارتی تحمل اور بین الاقوامی فریقین کے بیانات پر ہوگا۔ اگر کشیدگی میں کمی کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی گئی تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ مسئلہ ورلڈ نیوز اور مشرقِ وسطیٰ بحران میں مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں