وفاقی پیپرا میں دوہری شہریت کے بعد ایک اور متنازع تعیناتی کی تیاری، مبینہ آئی ٹی ماہر کو 20 لاکھ ماہانہ پیکج “شفافیت خطرے میں “

اسلام آباد . ذرائع کے مطابق وفاقی پیپرا میں پہلے ہی امریکی، برطانوی اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے دوہری شہریت کے حامل بعض افراد کی تعیناتیوں پر سوالات موجود ہیں، اور اب 57 سال کے ایک مبینہ آئی ٹی اسپیشلسٹ کو 20 لاکھ روپے ماہانہ پر رکھنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

اسی دوران ePAD (الیکٹرانک پبلک پروکیورمنٹ) سسٹم، جو شفاف خریداری کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، عملی طور پر ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اربوں روپے کے ٹینڈرز مخصوص منظورِ نظر کنٹریکٹرز کو دیے جا رہے ہیں، جس سے شفافیت اور احتساب پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

ورلڈ بینک قرض اور تضاد

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان پیپرا نے اسی نوعیت کا سسٹم چند کروڑ روپے میں تیار کیا، جبکہ وفاقی سطح پر یہی نظام ورلڈ بینک سے قرض لے کر بنایا گیا، جس کی سود سمیت ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود سسٹم کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتر سکی۔

یہ صورتحال اس وقت مزید حساس ہو جاتی ہے جب عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے سخت نگرانی کے باوجود خاموشی اختیار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو بین الاقوامی تعاون اور اعتماد کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

ChatGPT کے استعمال پر پہلے بھی اعتراض
سینئر صحافی کے مطابق اس سے قبل بھی بعض منظورِ نظر افسران نے ChatGPT کے ذریعے سرکاری معاملات چلانے کی کوشش کی، جس پر ایک کیس میں کابینہ ڈویژن نے پیپرا کے ایک افسر کو سرزنش بھی کی تھی۔ اس کے باوجود غیر شفاف تقرریوں اور غیر رسمی طریقہ کار کے الزامات ختم نہیں ہو سکے۔

شفاف خریداری کیوں اہم ہے؟

پاکستان میں پبلک پروکیورمنٹ نظام بین الاقوامی اداروں، عالمی برادری اور ڈونرز کے اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ شفاف اور موثر نظام نہ صرف عوامی وسائل کے تحفظ بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے بھی ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ان تقرریوں اور ePAD سسٹم کے معاملات پر بروقت وضاحت اور اصلاح نہ کی گئی تو اس سے نہ صرف ادارے پر مالی بوجھ بڑھے گا بلکہ پاکستان کی گورننس ریفارمز پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں متعلقہ حکام کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں