این ایف سی فنڈز وفاق اور خیبر پختونخوا کے دعوے ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہیں؟

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نیشنل فنانس کمیشن این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو بروقت شفاف اور مسلسل مالی وسائل فراہم کر رہی ہے تاکہ صوبے کی مالی ضروریات پوری کی جا سکیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سابق فاٹا کے انضمام کے بعد درپیش چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔

وفاقی حکام کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کا حصہ صوبائی حصے میں سے 14.62 فیصد مقرر کیا گیا تھا جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث صوبے پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر منقسم قابل تقسیم محاصل میں سے ایک فیصد اضافی حصہ بھی دیا گیا۔ چونکہ آٹھویں نویں اور دسویں این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے نہ ہو سکا اس لیے ساتواں این ایف سی ایوارڈ ہی بدستور نافذ ہے اور اسی کے تحت خیبر پختونخوا کو اضافی فنڈز سمیت مکمل حصہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

وفاق کا کہنا ہے کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کو رقوم ہر پندرہ دن بعد باقاعدگی سے جاری کی جاتی ہیں اور اس مد میں کوئی رقم واجب الادا نہیں۔ حکام کے مطابق 17 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا کو 46.44 ارب روپے جاری کیے گئے جو وفاقی وعدوں کی تکمیل کا ثبوت ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبر پختونخوا کو قابل تقسیم محاصل میں سے مجموعی طور پر 5867 ارب روپے ادا کیے گئے جبکہ اسی عرصے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 705 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ اس کے علاوہ این ایف سی سے ہٹ کر تیل و گیس کی رائلٹی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اور قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی سمیت مختلف مدات میں 482.78 ارب روپے صوبے کو منتقل کیے گئے۔

وفاقی حکومت کے مطابق سابق فاٹا کے انضمام کے بعد این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم ممکن نہ ہونے کے باعث نئے ضم شدہ اضلاع کے اخراجات وفاق اپنے حصے سے برداشت کر رہا ہے اور 2019 سے اب تک اس مد میں 704 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح بے گھر افراد کی بحالی کے لیے مختلف ادوار میں 117.166 ارب روپے دیے گئے جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت گزشتہ پندرہ برسوں میں خیبر پختونخوا کے صوبائی نوعیت کے منصوبوں کے لیے 115 ارب روپے مختص کیے گئے۔

دوسری جانب حکومت خیبر پختونخوا نے وفاقی اعداد و شمار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار مکمل تصویر پیش نہیں کرتے اور صوبے کے واجبات اب بھی بقایا ہیں۔

شفیع جان کے مطابق وفاق پر خیبر پختونخوا کے تقریباً چار کھرب روپے کے واجبات تاخیر کا شکار ہیں جبکہ پن بجلی منافع کی ادائیگیاں مکمل نہیں ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ ٹرانسفرز میں ونڈ فال لیوی شامل نہیں کی گئی اور پیٹرولیم اور گیس پر عائد ایکسائز ڈیوٹیز صوبے کے حصے میں منتقل نہیں کی جا رہیں جبکہ تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی بھی بدستور وفاق وصول کر رہا ہے حالانکہ یہ شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق این ایف سی ایوارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے کے باعث 2018 سے اب تک خیبر پختونخوا کو تقریباً 1375 ارب روپے کم ملے۔ شفیع جان کا کہنا ہے کہ اے آئی پی کے تحت ضم شدہ اضلاع کے لیے وعدہ کردہ 700 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 168 ارب روپے جاری کیے گئے جبکہ 2025 میں ضم شدہ اضلاع کے جاری اور ترقیاتی اخراجات میں 50 ارب روپے سے زائد کمی کی گئی۔

ان کے مطابق بے گھر افراد کے لیے اعلان کردہ 17 ارب روپے تاحال جاری نہیں ہوئے اور صوبائی حکومت نے آئی ڈی پیز کی بحالی پر اپنے وسائل سے 11 ارب روپے سے زائد خرچ کیے۔ شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ وفاق تمام صوبوں کے لیے پی ایس ڈی پی این ایچ اے منصوبوں اور سبسڈیز کی تفصیلات پبلک کرے کیونکہ شفافیت کے بغیر مالی وفاقیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ این ایف سی نظام کو مزید مضبوط اور جامع بنانے کے لیے پرعزم ہے اور گیارہویں این ایف سی کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق نئے ضم شدہ اضلاع اور سابق فاٹا کے حصے سے متعلق سفارشات کے لیے قائم ذیلی گروپ کا اجلاس 23 دسمبر کو منعقد ہو رہا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں