اسلام آباد: اسلامی جمعیت طلبا کے زیرِ اہتمام جاری انٹرنیشنل لیڈرشپ سمٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دنیا کے معاملات چند طاقتوں کے مفادات کے لیے چل رہے ہیں.اسرائیل کی ریاست کو کبھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا.ہم حماس کی مکمل حمایت کرتے ہیں جو غزہ کی تسلیم شدہ جمہوری قوت یے.اسرائیل امن معاہدے کو بار بار توڑ رہا ہے.غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے اسرائیل کو وہاں سے نکالنا ہو گا.پاکستان بین الاقوامی امن فورس کا حصہ نہ بنے،
پاکستان کے عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ امریکہ سے کیا ڈیل ہو رہی ہے،فلسطین کی تحریک کو کچلنے کے منصوبے سے پاکستان الگ رہے،حماس کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جائے، پوری دنیا اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور عالمی نظام چند طاقتوں کے مفادات کے تحت چل رہا ہے.ہفتہ کے روز انٹرنیشنل لیڈرشپ سمٹ 2025 میں امیر جماعت اسلامی نے غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی امتِ مسلمہ کا مستقبل ہے جس نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کر کے شعور کا ثبوت دیا۔ اقوامِ متحدہ بڑی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال ہے اور دنیا میں انصاف ناپید ہو چکا ہے.
حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور غزہ میں امن کے لیے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر ہے۔دنیا بھر کو لوگ دیکھ رہے ہیں کہ انہیں انصاف کیسے ملے گا.پوری دنیا میں چند فیصد لوگوّں نے پوری دنیا کی آبادی کو یرغمال بنایا ہوا ہے. حبفظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے، مگر بدقسمتی سے مسلم ممالک میں ایسے حکمران مسلط ہیں جو اپنے عوام کے بجائے مغربی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ دنیا میں پیدا ہونے والا خلا اسلام کے عادلانہ نظام سے ہی پُر کیا جا سکتا ہے.
امیر جماعت اسلامی نے کہا بنگلہ دیش اور کشمیر کے حالات، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات، اور فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے لیے ہر ممکن عملی اقدام اٹھایا جائے.ابھی کچھ دن پہلے جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے نمائندوں نے شرکت کی.