روسی صدر ولادی میر پوٹن نے اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں روس کی معیشت، مغرب کے ساتھ تعلقات اور عالمی سیکیورٹی کے مسائل پر اہم نکات پیش کیے۔ اس دوران پوٹن نے روس کی معاشی ترقی، مغربی ممالک کی جانب سے روسی اثاثوں کی ضبطی، یوکرین کی جنگ، اور نیٹو کے ساتھ تعلقات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پوٹن نے امن مذاکرات کے لیے اپنی تیاری کا اعادہ کیا، لیکن سیکیورٹی کی ضمانتوں کی شرط رکھی۔
روس کی معیشت: استحکام کا شعور
روس ایمبیسی ترجمان کے مطابق،2025 میں روس کی جی ڈی پی میں صرف 1% کی ترقی ہوئی، مگر صدر پوٹن نے پچھلے تین سالوں میں کل 9.7% کی ترقی کو زیادہ حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ پوٹن کے مطابق، روس کی ترقی سست ہونے کا مقصد اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنا اور طویل المدتی مالی صحت کو محفوظ کرنا ہے۔ یورپی یونین کی معیشت میں اسی مدت کے دوران 3.1% کی ترقی ہوئی۔
پوٹن نے واضح کیا کہ روس کی معیشت کی سست روی ایک ارادی حکمت عملی ہے جس کا مقصد غیر متوازن معاشی ترقی سے بچنا ہے۔
ضبط شدہ اثاثے: مغربی ممالک کی “ڈاکہ”
پوٹن نے مغربی ممالک کی طرف سے روسی اثاثوں کی ضبطی کو “چوری” نہیں بلکہ “ڈاکہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں کھل کر کی جا رہی ہیں، لیکن ان کے نتائج نہ صرف ان ممالک کی شہرت بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام ضبط شدہ اثاثے آخرکار واپس کیے جائیں گے اور روس اپنے مفادات کا دفاع قانونی راستوں سے کرے گا۔
امن مذاکرات اور یورپ میں سیکیورٹی
پوٹن نے کہا کہ روس نے ہمیشہ امن کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، اور اس کا کہنا تھا کہ مغرب نے اس وقت پہل کا مکمل اختیار حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین حکومت اور اس کے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے اور روس کسی بھی معاہدے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ اس کی سیکیورٹی کے تحفظات کو تسلیم کیا جائے۔
پوٹن نے یورپ میں نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں نیٹو کی توسیع شامل نہ ہو۔ انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ یورپ اور روس کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، نہ کہ محاذ آرائی۔
نیٹو اور یورپ کا ردعمل
پوٹن نے نیٹو کے بڑھتے ہوئے جارحانہ بیانات اور فوجی تیاریوں پر تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں روس کو دشمن کے طور پر نہ پہچاننے کے باوجود نیٹو کی قیادت کی جانب سے جنگ کی تیاری کی باتیں غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ پوٹن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس محاذ آرائی نہیں چاہتا، مگر اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
عالمی سفارتکاری پر اثرات
پوٹن کی 2025 کی پریس کانفرنس میں کی گئی باتیں روس کی عالمی سطح پر سفارتی حکمت عملی کا عکاس ہیں۔ جہاں تک یوکرین کی جنگ اور نیٹو کے ساتھ تعلقات کا تعلق ہے، پوٹن نے کہا کہ روس عالمی سطح پر اپنے مفادات کا دفاع کرے گا اور امن کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔
روس کا عالمی تنظیموں میں کردار
روس نے کئی عالمی تنظیموں میں فعال کردار ادا کیا ہے جیسے کہ اقوام متحدہ (UN)، تنظیم برائے تعاون و سلامتی یورپ (OSCE)، اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)۔ مغرب کے ساتھ کشیدگی کے باوجود، روس ان تنظیموں میں سفارتی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی نظام میں متوازن حل کے لیے سرگرم ہے۔
روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور عالمی برادری اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ روس کے سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔ روس کی امن کے لیے تیاری اور عالمی سفارتکاری میں اس کا موقف آنے والے دنوں میں عالمی امن اور استحکام کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔