اسلام آباد :ملک کے سب سے بڑے سگریٹ ساز ادارے پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے غیر قانونی سگریٹ تجارت کے خلاف کارروائیوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔جمعرات کے روز اسلام آباد میں زرائع ابلاغ کے نمائدوں کو بریفگ دیتے ہوئےپاکستان ٹوبیکو کمپنی کے حکام نے غیر قانونی تمباکو سیکٹر کے خلاف حالیہ حکومتی اقدامات کو سراہا.پاکستان ٹوبیکو کمپنی حکام کے مطابق 2025 کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 17 ارب سگریٹ اسٹکس اور خام مال ضبط اور تلف کیا گیا، جو کہ غیر قانونی سگریٹ تجارت کے خلاف ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں غیرقانونی سگریٹ سیکٹر غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث قوانین کا نفاذ، سختی اور تسلسل سے ناگزیر ہے۔
کمپنی کے حکام نے بتایاکہ غیرقانونی سگریٹ بنانے والوں نے اپنے طریقہ کار کو تبدیل کر لیا ہے۔اب غیر قانونی سگریٹ سازی کرنے والے عناصرنے سگریٹ تیاری کے لیے ملک بھر میں سگریٹ سازی کے چھوٹے خفیہ یونٹ قائم کر لیے ہیں.جبکہ غیر قانونی سگریٹ سازی کا عمل کھیتوں، رائس ملز اور حتیٰ کہ زیرِ زمین فیکٹریوں تک پھیل چکا ہے۔جس کا خاتمہ کرنے کے لیےسگریٹ انڈسٹری کی پوری سپلائی چین کو جامع انداز میں ریگولیٹ کرنا ہوگا، جس میں خام مال کی دستاویزی پیداوار کی نگرانی، ٹریک اینڈ ٹریس نظام، لاجسٹکس اور ترسیل، مضبوط بارڈر کنٹرول، مؤثر قانونی کارروائی اور ریٹیل سطح پر نفاذ شامل ہے۔
پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے ریگولیٹری انگیجمنٹ مینیجر حمزہ خان نے کہا کہ سگریٹ پر ٹیکس میں اضافے کے نتیجے میں صارفین مہنگے قانونی سگریٹ برانڈز سے سستے غیر قانونی سگریٹ برانڈز کی طرف منتقل ہوئے ہیں.اس قانونی سے غیر قانونی سگریٹ برانڈز کی طرف منتقلی کی سب سے بڑی وجہ مالی سال 2022-23 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں غیر معمولی اضافہ ہے.
حکام نے حکومت کی جانب سے دیگر دستاویزی اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے اہم خام مال ایسیٹیٹ ٹو میٹریل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کیے جانے کے بعد یہ پاکستان میں اسمگلنگ کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش مصنوعات میں شامل ہو چکا ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے 500 ٹن سے زائد ایسیٹیٹ ٹومیٹریل ضبط کیا، جو ٹیکس بڑھانے کے منفی اثرات کی واضح مثال ہے۔
حمزہ خان نے ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر عملدرآمد کی خراب صورتحال کی بھی نشاندہی کی اور بتایا کہ مارکیٹ میں اب بھی متعدد برانڈز ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس سٹیمپ کے بغیر دستیاب ہیں، جو ریگولیٹری نظام اور اس میں بہتری کے مؤثر ہونے پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔