اسلام آباد: قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے ادارہء فروغ قومی زبان اور پاکستان یوتھ لیگ والنٹیئر فورم کے زیراہتمام قزاقستان میں سکالر پاکستان چیئر پروفیسر ڈاکٹر رؤف امیر کی تصنیف “وسط ایشیا میں اردو” کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں نظامت کے فرائض الحمد یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر شیر علی نے بخوبی انجام دیے۔ تقریب کی ابتدا تلاوت قرآن پاک سے ہوئی، جس کا شرف قاری محمد امین مجددی نے حاصل کیا، جبکہ نعت رسول مقبول کا اہتمام صاحب زادی تمکنت رؤف امیر نے کیا۔
ڈاکٹر رؤف امیر واہ کینٹ اور پاکستان کا فخر ہیں؛بیرسٹر عقیل ملک
لیفٹیننٹ جنرل ر عبدالقیوم کا خطاب
پی او ایف واہ کینٹ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ر سینیٹر عبدالقیوم نے ڈاکٹر رؤف امیر کی کتاب “وسط ایشیا میں اردو” کی تقریب رونمائی کے دوران اپنے خطبہء صدارت میں کہا کہ ڈاکٹر رؤف امیر نے وسط ایشیائی ریاستوں میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اہم خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رؤف امیر نے نامساعد حالات میں بھی وطن کا نام بلند کیا۔
بیرسٹر عقیل ملک کا پیغام
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ڈاکٹر رؤف امیر واہ کینٹ اور پاکستان کا فخر ہیں۔ ان کی خدمات وسط ایشیا میں قابل تحسین ہیں اور اردو زبان وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی بھی پسندیدہ زبان ہے۔
کتاب پر تبصرہ اور اردو زبان کی اہمیت
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید نے خیرمقدم کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر رؤف امیر کی کاوشوں کو سراہا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر فاروق عادل نے کتاب پر تفصیل سے تبصرہ کیا اور اس کی علمی و ادبی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اردو زبان کے فروغ میں ڈاکٹر رؤف امیر کی خدمات کی تعریف کی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اردو زبان کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے۔
عفت رؤف کی خدمات کا اعتراف
چیئرپرسن پاکستان یوتھ لیگ والنٹیئر فورم عفت رؤف نے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا اور قزاقستان میں ڈاکٹر رؤف امیر کے دوران قیام پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اردو زبان کے وسط ایشیا میں درپیش مسائل اور ان کے حل پر بھی بات کی۔ عفت رؤف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قزاقستان میں اعلیٰ ادبی ایوارڈ وصول کرنے کے باوجود ڈاکٹر رؤف امیر کی خدمات کو ملکی سطح پر مناسب طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
کتاب کی اہمیت اور اردو کے فروغ کے لیے اپیل
ڈائریکٹر جنرل ادارہء فروغ قومی زبان، پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ دنیا کو پاکستان سے شدت پسندی کا شکوہ ہے، جسے زبان و ادب اور فنون لطیفہ کے ذریعے زائل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان محنتی لوگوں کی سرزمین ہے اور اردو ایک خوبصورت زبان ہے۔ انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے عملی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب میں شریک تمام مہمانوں کو ڈاکٹر رؤف امیر کی کتاب “وسط ایشیا میں اردو” کے تحفے اور خوبصورت اسناد سے نوازا گیا۔ اس تقریب نے اردو زبان کے عالمی سطح پر پھیلاؤ اور ڈاکٹر رؤف امیر کی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے ایک نیا سنگ میل طے کیا ہے۔