اسلام آباد: اسلام آباد میں صنعتی طور پر پیدا ہونے والے ٹرانس فیٹی ایسڈز (iTFA) کے خاتمے کے موضوع پر ایک خصوصی تربیتی سیشن منعقد ہوا۔ ماہرین کے مطابق، iTFA کے استعمال میں کمی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دل کی بیماریوں اور غیر متعدی امراض پر قابو پانے کے لیے نہایت ضروری ہے، جو ایک بڑا عوامی صحت کا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی تربیتی سیشن
ڈپارٹمنٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، جامعہ کراچی نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے تعاون سے مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں یہ تربیتی سیشن منعقد کیا۔ سیشن میں خوردنی تیل اور گھی تیار کرنے والی معروف صنعتوں کے نمائندگان کے علاوہ:
اسلام آباد فوڈ اتھارٹی
آزاد جموں و کشمیر فوڈ اتھارٹی
گلگت بلتستان فوڈ اتھارٹی
بلوچستان فوڈ اتھارٹی
پناہ (PENAH) ہارٹ فائیل کے نمائندگان اور افسران نے شرکت کی۔
ماہرین کی تکنیکی رہنمائی
پروگرام کا آغاز معروف فورٹیفکیشن ایکسپرٹ ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جنہوں نے عالمی ادارہ صحت (WHO) کی سفارشات کے مطابق iTFA میں کمی کی قومی ضرورت پر زور دیا۔
تکنیکی سیشن میں ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ غفران سعید (ایسوسی ایٹ پروفیسر) اور ڈاکٹر عبد الحق (چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فوڈ سائنس) نے شواہد پر مبنی طریقہ کار پیش کیے، جن کے ذریعے صنعت 2 فیصد قانونی حد کے اندر رہتے ہوئے iTFA کو کم کر سکتی ہے۔ گفتگو میں: پراسیسنگ میں بہتری
آئل ریفارمیشن کے عملی طریقے معیاری SOPs پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ٹیم کے دیگر اراکین، جن میں معین قریشی، ڈاکٹر سیما اشرف اور ڈاکٹر سید ارسلان علی شامل تھے، نے بھی تکنیکی مباحثے میں فعال کردار ادا کیا۔
عبد الحمید کیانی کا خطاب
تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکریٹری فوڈ اور ڈائریکٹر جنرل AJ&K فوڈ اتھارٹی، جناب عبد الحمید کیانی تھے۔ انہوں نے کہا کہ: “iTFA کے استعمال کو کم کرکے پاکستان میں دل کی بیماریوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔”
انہوں نے اس مشترکہ کاوش کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ فوڈ اتھارٹیز نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے، لیبارٹری اور انسپیکشن صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور صنعت کو iTFA-فری پیداوار کی طرف منتقل کرنے میں مکمل تعاون فراہم کریں گی۔
غیر متعدی بیماریوں پر تشویش
ڈاکٹر صبا امجد (ہارٹ فائیل) نے اختتامی خطاب میں ٹرانس فیٹس سے منسلک بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو اجاگر کیا اور ان کے مکمل خاتمے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ نہایت تشویشناک ہے، اور ٹرانس فیٹس اس کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ: ٹرانس فیٹس میں کمی کے لیے فوری اور مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
2 فیصد حد کے سخت نفاذ پر اتفاق
شرکاء نے iTFA کے خاتمے سے متعلق تکنیکی اور ریگولیٹری پہلوؤں پر تفصیلی بحث کے بعد اس بات پر اتفاق کیا کہ 2 فیصد کی حد کا ملک بھر میں سختی سے نفاذ ناگزیر ہے، تاکہ دل کی بیماریوں کے خطرات کم ہوں اور عوام کو محفوظ خوردنی چکنائی فراہم کی جا سکے۔
تربیتی سیشن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ iTFA کے مکمل خاتمے کے لیے: صلاحیت سازی
SOPs کی ہم آہنگی ،صنعت اور ریگولیٹرز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا، تاکہ پاکستان میں صحتِ عامہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔