ویب ڈیسک: یزیدی مذہب، جسے ماہرین دنیا کے قدیم ترین زندہ مذاہب میں شمار کرتے ہیں، آج بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی منفرد مذہبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ موجود ہے۔ اندازوں کے مطابق اس مذہب کی تاریخ سات ہزار برس سے زائد پرانی ہے۔ پاکستان نیوز ٹوڈے، عالمی خبریں اور بین الاقوامی برادری میں مذہبی و ثقافتی تنوع پر بڑھتی ہوئی گفتگو کے تناظر میں یزیدی مذہب کو سمجھنا عالمی ثقافتی مکالمے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

لالش: یزیدیوں کا مقدس ترین مقام
یزیدی مذہب کا سب سے مقدس مقام لالش شمالی عراق میں واقع خودمختار علاقے کردستان میں ہے، جو دارالحکومت اربیل سے تقریباً 125 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
بی بی سی کے مطابق، لالش میں آنے والے سیاحوں کے لیے ڈائریکٹر آف وزیٹر ریلیشنز لقمان محمود کا کہنا ہے:
’یزیدیوں کے لیے لالش اتنا ہی مقدس ہے جتنا مکہ اور یروشلم اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے ماننے والوں کے لیے ہیں۔‘ یہ مقام تقریباً چار ہزار سال قدیم ہے اور یہاں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو آنے کی اجازت ہے۔
عبادت گاہیں اور شیخ عدی کا مقبرہ
لالش میں متعدد عبادت گاہیں موجود ہیں، جبکہ یہاں یزیدیت کے بانی شیخ عدی بن مسافر کا مقبرہ بھی واقع ہے، جو یزیدی عقیدے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے یزیدی عقیدت مند اس مقام پر حاضری دیتے ہیں۔
یزیدی مذہب کی ابتدا اور عقائد
یزیدیت کی ابتدا کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور یہ معاملہ آج بھی علمی سطح پر متنازع سمجھا جاتا ہے۔ تاہم عمومی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ مذہب سات ہزار سال سے زیادہ قدیم ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یزیدی عقائد میں زرتشتی مذہب، صوفی تصوف، عیسائیت اور یہودیت کے مختلف عناصر شامل ہوتے چلے گئے۔
ڈائریکٹر آف وزیٹر ریلیشنز کے مطابق:
’یزیدیت کا ایک بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہم قدرتی دنیا کے ساتھ گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اور قدرت کی قدیم عبادتوں میں بھی اس مذہب کی جڑیں ملتی ہیں۔‘
جس طرح مسلمان مکہ کی زیارت کرتے ہیں، اسی طرح یزیدی بھی اپنی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ لالش کا دورہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عراق یا کردستان میں رہنے والے یزیدی سال میں کم از کم ایک بار یہاں حاضری دیتے ہیں۔
رسومات، لباس اور علامتیں
عقیدت مندوں اور دیگر افراد کو لالش میں داخلے کے لیے سادہ لباس پہننا ہوتا ہے اور مقدس مقام کے احترام میں ننگے پاؤں چلنا لازمی ہے۔ یزیدی روایت کے مطابق عبادت گاہ کے ستونوں اور درختوں پر ریشم کے کپڑوں کی گرہیں باندھی جاتی ہیں۔ مختلف رنگ سات فرشتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ ہر گرہ عبادات اور دعاؤں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
یزیدیوں کا ماننا ہے کہ پچھلے عقیدت مند کی گرہ کھولنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات پوری ہو چکی ہیں۔
لالش کی روزمرہ زندگی
لالش میں اس وقت 25 مستقل رہائشی موجود ہیں، جن میں ایک پادری، راہب، نن اور ’گھر کے غلام‘ شامل ہیں۔ یہ افراد صفائی، مرمت، باغات کی دیکھ بھال اور دیگر انتظامی امور انجام دیتے ہیں۔ وہ اخروٹ اور زیتون کے درختوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور زائرین کے لیے مقدس مٹی بھی جمع کرتے ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ہر یزیدی کے پاس لالش کی مٹی ہونی چاہیے، جو خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مٹی یزیدیوں کی آخری رسومات کا بھی حصہ ہے۔ مقدس پانی اور مٹی کا مرکب بنا کر اسے مرنے والے کے منھ، کانوں اور آنکھوں کے قریب رکھا جاتا ہے۔
تابوت میں سکے رکھنا بھی روایت کا حصہ ہے تاکہ مرنے والے کے پاس جنت میں خرچ کرنے کے لیے پیسے ہوں، جو کہ بابل کے دور کی ایک قدیم روایت سمجھی جاتی ہے۔ گھر کے غلام بیماروں کی شفا، مرنے والوں کی مغفرت اور خوش قسمتی کے لیے سفید دھاگے جلاتے ہیں۔
عبادت، روشنی اور سورج
لالش کے جنگلات سے حاصل کردہ زیتون کو لڑکی کے بیرلز میں پیروں سے پیسا جاتا ہے، اور اس کا تیل غاروں میں مٹی کے برتنوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ زیتون کا تیل مقدس عبادات میں استعمال ہوتا ہے۔
یزیدی دن میں کم از کم دو مرتبہ سورج کی جانب رخ کر کے عبادت کرتے ہیں، ایک صبح اور دوسری مغرب کے وقت۔ مغرب کے وقت 365 چراغ جلائے جاتے ہیں، جن میں ہر چراغ سال کے ایک دن کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ چراغ سورج اور خدا کی روشنی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد بھی یزیدیوں کو سورج کی سمت رُخ کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔
تشدد، تاریخ اور شناخت
یزیدی عقائد کو غیر روایتی سمجھتے ہوئے ان کے خلاف تشدد کی ایک طویل تاریخ بھی موجود ہے۔
’یہ سلسلہ سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے دور میں شروع ہوا، اور اس کے بعد ہم نسل کشی کے 70 سے زائد مختلف ادوار گن سکتے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں صدام حسین اور (نام نہاد) دولتِ اسلامیہ نے بھی یہی کیا۔‘
ڈائریکٹر آف وزیٹر ریلیشنز بتاتے ہیں کہ یزیدی مرد جو ’جمادانی‘ نامی پگڑی پہنتے ہیں، وہ پہلے سفید رنگ کی ہوتی تھی، مگر اب لالش میں سرخ اور سفید رنگ کی ہے، جو یزیدیوں کے قتلِ عام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
’روایتی لباس کے ذریعے ہم ان لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہیں ہم نے کھو دیا، اور یہ اپنی روایات کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔‘
جمعہ، اجتماع اور مہمان نوازی
یزیدیوں کے لیے جمعے کا دن مقدس ہے۔ اس روز لالش میں بڑی تعداد میں لوگ عبادت اور سماجی سرگرمیوں کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ہ کھانا لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔ انہوں نے مہمانوں کو دوپہر کے کھانے کی دعوت بھی دی۔
کھلے کچن میں انہوں نے ایک اور خاتون کے ساتھ مل کر مٹن کے روایتی کھانے تیار کیے۔
یزیدی برادری میں مذہب کی تبدیلی یا دوسرے عقائد میں شادی کی اجازت نہیں۔
’ہم اسی طرح اپنے مذہب کو خالص رکھ سکتے ہیں اور اپنے طرزِ زندگی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس سے ہماری روحیں پُرسکون رہتی ہیں اور ہم مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر درخت کی جڑیں گہری نہ ہوں تو وہ گر جاتا ہے، یزیدیت کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔‘