ویب ڈیسک : لبنان اور شام کے دیہات میں ہر سال دسمبر کے آغاز کے ساتھ ہی ایک قدیم مسیحی روایت زندہ ہو جاتی ہے، جب سینٹ بربارہ کا دن مذہبی عقیدت اور عوامی ثقافت کے امتزاج کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی مسیحی برادری کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی ثقافتی ورثے کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی ثقافتی تنوع پر بات کرنے والے حلقوں کے لیے یہ روایت خاص معنویت رکھتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سیاست اور بین الاقوامی برادری ثقافتی مکالمے پر زور دے رہی ہے۔
والد کی قید سے فرار اور پھر عقیدے کی بنیاد پر قتل کی جانے والی خاتون جنھیں مسیحی عقیدے میں ’مشکل کُشا‘ کہا جاتا ہے
لوک گیت، بچے اور گلیوں کی رونق
’ہاشلہ بربارہ مع بنات الحارہ‘—یہ مصرع معروف لبنانی گلوکارہ صباح کے مشہور گیت کا حصہ ہے، جو ہر سال اس موقع پر لبنان اور شام میں گلی کوچوں میں گونجتا ہے۔ اس رات بچے ٹولیوں کی شکل میں گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، روایتی نغمے گاتے ہیں اور مٹھائیاں جمع کرتے ہیں۔ یہ روایت کسی حد تک مغربی دنیا کے ہیلووین سے مشابہ سمجھی جاتی ہے۔
مختلف کلیساؤں میں مختلف تاریخیں
مغربی میڈیا کے مطابق، مغربی کلیسا، جن میں مارونی اور کیتھولک شامل ہیں، سینٹ بربارہ کا دن چار دسمبر کو مناتے ہیں۔
مشرقی کلیسا جیسے رومی آرتھوڈوکس اسے 12 دسمبر کو جبکہ قبطی مسیحی ماہِ کیہک کی آٹھ تاریخ کو مناتے ہیں، جو عموماً دسمبر میں ہی آتی ہے۔
روایتی کھانے اور ثقافتی رنگ
اس موقع پر گھروں میں گیہوں ابال کر اس میں کشمش، بادام، اخروٹ، چینی اور دارچینی ملائی جاتی ہے۔
قطائف، معکرون اور عوّامات جیسی روایتی مٹھائیاں بھی پیش کی جاتی ہیں۔ ماضی میں لوگ چہرے رنگتے اور پھٹے پرانے کپڑے پہن کر گھومتے تھے، جو اس تہوار کو ایک لوک رنگ عطا کرتا تھا۔
سینٹ بربارہ: تاریخ اور روایت
روایات کے مطابق سینٹ بربارہ تیسری صدی عیسوی میں موجود تھیں، جبکہ ان کی یاد منانے کا سلسلہ ساتویں صدی سے شروع ہوا۔ بعض روایات ان کی جائے پیدائش بعلبک (لبنان) اور بعض نیکومیدیا (موجودہ ترکی) بتاتی ہیں۔ فلسطین کے گاؤں عمود میں آج بھی لوگ ان کے مزار پر چراغ روشن کرتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ وہ ایک رئیس رومی کی بیٹی تھیں، جنہیں والد نے ایک مینار میں قید کر رکھا تھا۔ فطرت کے مشاہدے اور ایک مسیحی استاد کی تعلیمات نے انہیں مسیحی عقیدے تک پہنچایا۔ ایمان کے اظہار پر انہیں شدید اذیتیں دی گئیں اور بالآخر ان کا سر قلم کر دیا گیا، جس کے بعد وہ مسیحیت کی ابتدائی شہداء میں شمار ہوئیں۔
عقیدے میں مقام اور جدید مثال
مسیحی عقیدے میں سینٹ بربارہ کو وبائی امراض اور خطرات سے بچانے والی مقدس ہستی مانا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ ان کے قتل کے بعد ان کے والد آسمانی بجلی سے ہلاک ہوئے۔
سنہ 2010 میں چلی کے وہ کان کن، جو دو ماہ سے زیادہ زیر زمین پھنسے رہے تھے، انہوں نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں سینٹ بربارہ کو یاد کیا۔
ایسے وقت میں جب عالمی سیاست، عالمی خبریں اور بین الاقوامی برادری ثقافتی شناخت اور مذہبی رواداری پر بات کر رہی ہے، سینٹ بربارہ جیسی روایات مشرقِ وسطیٰ کے تاریخی تنوع کو اجاگر کرتی ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بین المذاہب مکالمہ اور ثقافتی احترام عالمی امن کے لیے ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔