ماہرینِ صحت کا پاکستان میں ٹرانس فیٹ کے خاتمے اور دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات پر زور

اسلام آباد— جامعہ کراچی کے ڈپارٹمنٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیوٹریشن انٹرنیشنل اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے نمائندگان پر مشتمل ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صنعتی طور پر پیدا ہونے والی ٹرانس فیٹی ایسڈز (iTFA) کے باعث بڑھتے ہوئے دل اور دیگر غیر متعدی امراض کے خطرات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں چیئرمین ڈاکٹر ایم عبد الحق اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم غفران سعید نے ملک میں iTFA کی موجودگی، اس کے استعمال، اور اس کے صحت پر مضر اثرات سے متعلق ایک جامع جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تکنیکی بہتری، مصنوعات کی ریفارمولیشن، اور سائنسی بنیادوں پر پالیسی سازی وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے ٹرانس فیٹ کے استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی معیار کے مطابق پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

PANAH کے جنرل سیکرٹری ثناء اللہ گھمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ کئی برسوں سے ٹرانس فیٹ کے مضر اثرات کے خلاف مضبوط ایڈووکیسی کر رہا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور ترقیاتی تنظیموں کے ساتھ اس تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام میں آگاہی، ریگولیٹری نظام کو مضبوط کرنا، اور صحت بخش تیل و چکنائی کے استعمال کو فروغ دینا مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر مکمل اتفاق کیا گیا کہ تمام شراکت دار ادارے باہمی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے ٹرانس فیٹ سے جڑے صحت کے خطرات میں کمی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے اور پالیسی سطح پر مزید عملی اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں