اسلام آباد : گزشتہ روز اسلام آباد کلب میں مسلم لیگ (ق) پنجاب کے صدر ملک سمین خان کی جانب سے مسلم لیگ (ق) اوورسیز یوکے کے وفد کے اعزاز میں خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں تنظیمی امور، اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل، پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی اور رابطہ کاری کے طریقۂ کار پر تفصیل سے مشاورت کی گئی۔
وفد کی قیادت سینیئر رہنما اور بانی و سرپرستِ اعلیٰ چودھری شجاعت حسین لوورز فورم، ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے کی۔ وفد میں صدر برمنگھم محمد شفیق، مرکزی ممبران اور مختلف عہدیداران بھی شامل تھے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے موثر حکومتی و تنظیمی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔
ڈاکٹر شوکت علی شیخ اور ان کے ساتھیوں نے پارٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف قابلِ عمل تجاویز پیش کیں، جن کا مقصد:
کارکنوں اور قائدین کے درمیان روابط کو بہتر بنانا
ضلعی سطح پر تنظیموں کی ازسرِنو تشکیل
اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری
پارٹی کی عوام میں مقبولیت اور اعتماد میں اضافہ تھا۔
ملک سمین خان نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تنظیمی سطح پر درپیش چیلنجز، کارکنان کے تحفظات اور مستقبل کی حکمتِ عملی سے متعلق تمام امور جلد مرکزی قیادت تک پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پارٹی کو فعال اور مضبوط بنانے کے لیے وہ اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کر رہے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے ملک سمین خان کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی جماعت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ق) پاکستان کے اندر اور عالمی سطح پر مزید مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے ملک سمین خان کو ایک مدبر اور زیرک سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کو صحیح سمت کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں وفود نے مسلم لیگ (ق) کے مرکزی صدر چودھری شجاعت حسین کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد، قومی سلامتی کے لیے قربانیوں، اور سرحدوں کے تحفظ میں ادا کیے گئے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا — جو پاکستان کی قومی سلامتی، عالمی سطح پر سیکیورٹی کے مباحث، اور بین الاقوامی برادری (International Community) میں ملکی ساکھ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پاکستان اور اوورسیز کمیونٹی کی اہمیت
پاکستان دنیا بھر میں موجود اپنے اوورسیز شہریوں کو سفارتی مشن، اقتصادی شمولیت، ریمیٹینسز اور عالمی روابط کا ایک بنیادی ستون سمجھتا ہے۔ اوورسیز پاکستانی صرف ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا نہیں دیتے بلکہ بین الاقوامی تعلقات، کمیونٹی انگیجمنٹ اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اوورسیز کمیونٹی کے ساتھ بہتر رابطے اور پالیسی سازی کو ترجیح دینے لگی ہیں۔
آئندہ لائحہ عمل
ملاقات میں پیش کی گئی تجاویز کو آئندہ دنوں میں پارٹی کی مرکزی قیادت کے سامنے رکھا جائے گا۔ امکان ہے کہ مسلم لیگ (ق) اوورسیز پاکستانیوں کے لیے نیا رابطہ نیٹ ورک، تنظیمی ری اسٹرکچرنگ اور پالیسی اپڈیٹس متعارف کرائے۔ سیاسی حلقے اس پیشرفت کو آنے والے مہینوں میں پارٹی کی سرگرمیوں کے لیے اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔