ویب ڈیسک: پاکستان سمیت ایشیا کے بیشتر حصوں میں جب لوگ رفعِ حاجت کے لیے بیت الخلا جانے کا سوچتے ہیں تو اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ آیا وہاں مغربی طرز کا کموڈ ہوگا یا زمین پر بیٹھ کر استعمال ہونے والا بیت الخلا۔ وقت کے ساتھ جنوبی ایشیا میں مغربی طرز کے ٹوائلٹس عام ہوتے گئے ہیں، تاہم آج بھی بڑی تعداد میں لوگ زمین پر بیٹھ کر استعمال ہونے والے ٹوائلٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بحث کافی عرصے سے جاری ہے کہ صحت کے اعتبار سے کون سا طریقہ بہتر ہے: مغربی طرز کا کموڈ یا زمین پر بیٹھ کر استعمال ہونے والا ٹوائلٹ، جسے عام طور پر روایتی یا سکواٹنگ طرز کہا جاتا ہے۔
سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟
رواں سال جولائی میں ایک معروف امریکی طبی تحقیقی ادارے میں شائع ہونے والی تحقیق نے اس بحث کو سائنسی بنیاد فراہم کی ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں طریقے قابلِ استعمال ہیں اور ہر ایک کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں۔
رفعِ حاجت کے عمل کے پیچھے سائنس
اگرچہ باتھ روم جانا ایک سادہ عمل محسوس ہوتا ہے، لیکن تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں پٹھوں اور حرکات کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہوتا ہے جو فضلے کے اخراج کو آسان یا مشکل بنا سکتا ہے۔
معدے کے سینیئر ماہر ڈاکٹر کیالوزی جیرامن کے مطابق مقعد (جہاں سے فضلہ خارج ہوتا ہے) کی پوزیشن اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
“جب مقعد ایک قدرتی زاویے پر ہوتا ہے تو فضلے کا اخراج زیادہ آسانی سے ہوتا ہے۔”
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر بیٹھ کر رفعِ حاجت کرنے کی صورت میں مقعد نسبتاً سیدھی حالت میں ہوتا ہے، جس سے پٹھے قدرتی طور پر ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور فضلہ بغیر زیادہ دباؤ کے خارج ہو جاتا ہے۔
کموڈ اور جسمانی دباؤ
مطالعے کے مطابق مغربی طرز کے ٹوائلٹ پر سیدھے بیٹھنے سے پٹھے نسبتاً سخت رہتے ہیں اور بڑی آنت کا آخری حصہ خمیدہ حالت میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فضلے کے اخراج کے لیے زیادہ زور لگانا پڑ سکتا ہے۔
تاہم ڈاکٹر جیرامن واضح کرتے ہیں کہ صرف اسی بنیاد پر کموڈ کو غیر صحت بخش قرار دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مغربی طرز کے ٹوائلٹس میں بڑے مسائل ہوتے تو وہ دنیا بھر میں اتنے طویل عرصے تک استعمال نہ ہوتے۔
مغربی طرز کے ٹوائلٹس بزرگ افراد
جسمانی معذوری کا شکار افراد
یا بیماری کے دوران زیادہ موزوں اور محفوظ ثابت ہوتے ہیں۔
رفعِ حاجت کے تین عام طریقے
تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں عام طور پر تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:
مکمل طور پر زمین پر بیٹھ کر
مغربی طرز کے کموڈ پر بیٹھ کر
کموڈ پر بیٹھ کر پیروں کے نیچے اسٹول یا پٹرا رکھ کر
ماہرین کے مطابق تیسرا طریقہ مغربی ٹوائلٹ استعمال کرنے والوں کے لیے نسبتاً بہتر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے جسم کا زاویہ قدرتی سکواٹنگ کے قریب ہو جاتا ہے۔
زیادہ دباؤ کے نقصانات
تحقیق میں شامل رضاکاروں کے تجربات سے معلوم ہوا کہ زمین پر بیٹھ کر رفعِ حاجت کے دوران کم سے کم زور لگانا پڑتا ہے، جبکہ کموڈ پر بیٹھنے کی صورت میں اضافی دباؤ درکار ہو سکتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ دباؤ:
بواسیر
مقعد میں دراڑ اور بڑی آنت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سکواٹنگ طرز میں بیت الخلا میں گزارا جانے والا وقت بھی کم ہو جاتا ہے کیونکہ فضلہ زیادہ آسانی سے خارج ہو جاتا ہے۔
سب کے لیے ایک جیسا حل ممکن نہیں
طبی جرائد میں شائع ہونے والی مختلف تحقیقات کے مطابق زمین پر بیٹھنے والا ٹوائلٹ قبض سے بچاؤ اور بہتر ہاضمے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، تاہم یہ طریقہ بزرگ افراد اور جسمانی معذوری کے شکار لوگوں کے لیے مشکل بھی ہو سکتا ہے۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں دونوں طرز کے ٹوائلٹس کی ضرورت موجود ہے تاکہ ہر فرد اپنی جسمانی حالت کے مطابق انتخاب کر سکے۔
ماہرین کی حتمی رائے
ڈاکٹر کیالوزی کے مطابق: اس سے قطع نظر کہ آپ کون سا ٹوائلٹ استعمال کرتے ہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ غذا میں فائبر، پانی اور متوازن غذائی اجزا شامل ہوں تاکہ رفعِ حاجت قدرتی اور بغیر پیچیدگی کے ہو سکے۔”
ماہرین کے مطابق جدید دور میں بعض گھروں میں زمین پر بیٹھنے والے ٹوائلٹس کو اس انداز میں دوبارہ ڈیزائن کیا جا رہا ہے کہ انہیں بیٹھ کر بھی استعمال کیا جا سکے یا ان کے ساتھ اسٹول کا استعمال ممکن ہو، جو ایک عملی اور درمیانی حل ہے۔
صحت کا دار و مدار صرف ٹوائلٹ کی قسم پر نہیں بلکہ مجموعی طرزِ زندگی، خوراک اور جسمانی ضروریات پر ہوتا ہے۔