اسلام آباد، — بلوچستان حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں منعقدہ “کانفرنس آن سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ اینڈ کلائمٹ ریزیلیئنس” سے خطاب کرتے ہوئے رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ بلوچستان، جو پاکستان کے رقبے کے 44 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے، موسمیاتی خطرات اور حل — دونوں کا مرکز ہے۔
“پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اخراج نہ کرنے کے باوجود قیمت ادا کر رہا ہے۔ لیکن قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ بلوچستان خود کو وژن، جدت، اور لچک کے ساتھ مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کر رہا ہے۔”
بلوچستان حکومت کی شراکت داریوں اور لچکدار پالیسیوں کی تعریف
رومینہ خورشید عالم نے وزیرِاعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور چیف سیکریٹری شکیل قادر خان کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مؤثر رابطوں اور جدید کلائمٹ فنانسنگ ماڈلز کے ساتھ ہم آہنگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ، سکیورٹی اور ترقیاتی چیلنجز کے باوجود عالمی فنانس، ڈونر کوآرڈینیشن، اور پائیدار منصوبہ بندی میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔
کلائمٹ فنانس: ترقی کا بنیادی ستون
رومینہ عالم نے کہا کہ گرین کلائمٹ فنڈ، کنسیشنل فنانسنگ، اور گرانٹ بیسڈ سپورٹ بلوچستان کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ فنڈز ترجیحی طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں:
لچکدار انفراسٹرکچر
پانی کے تحفظ (Water Security)
موسمیاتی موافقت (Adaptation Measures)
پائیدار معاشی سرگرمیوں اور روزگار
انہوں نے زور دیا کہ پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ صوبے میں گرین ڈیولپمنٹ کے عمل کو تیز کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
بلوچستان کا ساحلی و سمندری خطہ — بلیو کاربن کی نئی معیشت
کانفرنس میں خاص طور پر بلوچستان کی ساحلی اور سمندری ماحولیاتی پٹی پر توجہ دی گئی، جہاں:
مینگرووز کی بحالی
سمندری حیاتیاتی تنوع کا تحفظ
بلیو کاربن مارکیٹس
ایکو ٹورزم کو مستقبل کی پائیدار معیشت کے بنیادی اجزا قرار دیا گیا۔
یہ اقدامات نہ صرف کاربن جذب کرتے ہیں بلکہ ساحلی کمیونٹیز کو معاشی طور پر مضبوط بھی بناتے ہیں۔
سیاسی عزم، بین الاصوبائی ہم آہنگی اور عالمی تعاون اہم عوامل
اپنے خطاب میں رومینہ عالم نے کہا:“سیاسی عزم وہ طاقت ہے جو پالیسی کو عملی کام میں تبدیل کرتی ہے۔ وفاق، صوبوں، عالمی اداروں اور مقامی کمیونٹیز کی ہم آہنگی ہی پائیدار ترقی کو ممکن بناتی ہے۔”
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی موسمیاتی سفارت کاری، عالمی مذاکرات، اور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے عزم کا اعادہ کیا۔
کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں شامل
ورلڈ بینک
ایشیائی ترقیاتی بینک
اقوام متحدہ کی ایجنسیاں
یورپی یونین
GIZ
نجی شعبے کے رہنما انہوں نے بلوچستان میں کلائمٹ ریزیلیئنس، کاربن مارکیٹس، قابلِ تجدید توانائی، پائیدار زراعت، اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا۔
پاکستان کی عالمی موسمیاتی سفارت کاری
پاکستان گزشتہ چند برسوں میں اقوام متحدہ (UNFCCC)، COP کانفرنسز، FAO، UNEP، OIC اور عالمی مالیاتی اداروں میں موسمیاتی انصاف، فنانس، اور لچکدار ترقی کا ایک مضبوط سفارتی کیس بنا چکا ہے۔
بلوچستان اس عالمی ایجنڈے میں اس لیے بھی مرکزی ہے کہ یہ ملک کا سب سے بڑا خطہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے مہینے بلوچستان کے لیے فیصلہ کن ہوں گے کیونکہ:
گرین کلائمٹ فنڈ اور بین الاقوامی فنانسنگ کھلنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں
بلیو کاربن اور رینیوبل انرجی منصوبے تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں
عالمی ادارے بلوچستان کو Priority Climate Investment Zone بنانے پر غور کر رہے ہیں
یہ پیش رفت خطے میں سکیورٹی، اقتصادی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔