تحریر و تحقیق: عابد صدیق چوہدری
رومانیہ کی قدیم سرزمین — ڈیشیا (Dacia) رومانیہ کے موجودہ علاقے کو قدیم زمانے میں ڈیشیا کہا جاتا تھا، جہاں ڈیشین نامی قبائل آباد تھے۔

106 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹراجان نے ڈیشیا کو فتح کر کے رومی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔
رومیوں نے یہاں اپنی زبان، تہذیب اور طرزِ زندگی متعارف کرایا، اور وقت کے ساتھ یہی زبان رومانیائی زبان کی بنیاد بنی۔
عظیم اتحاد 1918 — تاریخ کا ایک سنہری سنگِ میل
یکم دسمبر 1918 کو رومانیہ کی تاریخ میں “عظیم اتحاد کا دن” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اسی دن رومانیہ کے تین اہم تاریخی خطے:
• ٹرانسلوانیہ
• بیسارابیہ
• بوکووینا
قدیم یورپی سلطنتوں کے زوال کے بعد ابھرتی ہوئی جدید ریاست رومانیہ میں شامل ہوئے۔
یہی اتحاد آج کے جدید اور متحد رومانیہ کی بنیاد بنا۔
1. سنہ 1918 کی تقریبات اور البا ایولیا کی تاریخی اسمبلی
یکم دسمبر 1918 کو رومانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا قومی اجتماع شہر البا ایولیا میں منعقد ہوا۔
عوامی شرکت
• ملک کے تمام حصوں سے ایک لاکھ سے زائد رومانی باشندے شریک ہوئے۔
• 1,228 منتخب نمائندوں نے قومی اسمبلی میں حصہ لیا۔
اسمبلی کا مقصد
اس اجتماع کا مقصد تمام رومانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹرانسلوانیہ، بنات، کریشانہ اور مارماروش کے مملکتِ رومانیہ کے ساتھ اتحاد کے حق میں باضابطہ اور قانونی ووٹ دینا تھا۔
اعلانِ اتحاد
اسمبلی کی قرارداد میں اہم نکات شامل تھے:
• ٹرانسلوانیہ کا غیر مشروط طور پر رومانیہ سے اتحاد
• اقلیتی حقوق کی ضمانت (ہنگرین، جرمن وغیرہ)
• سیاسی، مذہبی اور سماجی آزادیوں کی توثیق
اس تاریخی اجتماع کے بعد ایک نئی رومانی قومی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔
2. عظیم اتحاد کی نمایاں شخصیات
(1) ایولیئو مانیو (Iuliu Maniu)

ٹرانسلوانیہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز قومی رہنما۔
انہیں رومانیہ کے ساتھ اتحاد کے اہم معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
(2) واسیلے گولڈش (Vasile Goldiș)

وہ رہنما جنہوں نے البا ایولیا میں اعلانِ اتحاد پڑھ کر سنایا۔
ان کے تحریر کردہ اصولوں نے اتحاد کو قانونی حیثیت دی۔
(3) میہائی سیور (Mihai Sever)

ٹرانسلوانیہ کی رومانی تحریکوں میں سرگرم سیاسی کارکن۔
انہوں نے رومانی معاشروں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
(4) شاہ فرڈیننڈ اوّل (King Ferdinand I)

رومانیہ کے بادشاہ جنہوں نے متحد قومی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کی۔
ان کی قیادت نے نئے متحد ملک کو استحکام فراہم کیا۔
(5) ملکہ ماریئے (Queen Marie of Romania)

انہوں نے بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر پیرس امن کانفرنس میں، رومانیہ کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔
3. پہلی جنگِ عظیم میں رومانیہ کا کردار
جنگ میں شمولیت (1916)
رومانیہ نے 1916 میں اتحادی قوتوں (ایلائنڈ پاورز) کا ساتھ دیا تاکہ ٹرانسلوانیہ کو آزاد کرا سکے، جہاں بڑی رومانی آبادی آسٹرو ہنگرین اقتدار کے تحت تھی۔
مشکلات
• جرمن اور آسٹرو ہنگرین افواج نے رومانیہ کے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا۔
• 1917 میں رومانی افواج نے جرات مندی سے درج ذیل معرکوں میں ملک کا دفاع کیا:
ماراشیشتی
ماراشتی
اوئیتوز
نتائج
جنگ کے اختتام پر اتحادیوں کی فتح نے رومانیہ کے قومی اتحاد کے مطالبات کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط اور جائز قرار دیا۔
4. 1918 کے عالمی سیاسی حالات
(1) قدیم سلطنتوں کا زوال
روسی، عثمانی، جرمن اور آسٹرو ہنگرین سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھیں، جس سے کئی اقوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملا۔
(2) ووڈرو ولسن کے چودہ نکات
امریکی صدر نے اقوام کو حقِ خود ارادیت دینے پر زور دیا، جسے رومانیہ نے اپنے تاریخی علاقوں کے اتحاد کے لیے بنیاد بنایا۔
(3) بالشویک انقلاب (1917)
اس انقلاب سے روس کمزور پڑ گیا، جس کے نتیجے میں بیسارابیہ کو پہلے آزادی اور پھر رومانیہ سے اتحاد کا موقع ملا۔
(4) آسٹریا-ہنگری کا خاتمہ
سلطنت کے ٹوٹنے کے بعد ٹرانسلوانیہ اور بوکووینا کو اپنے سیاسی مستقبل کا انتخاب کرنے کی آزادی ملی، اور انہوں نے رومانیہ کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا۔
پس منظر: پہلی جنگِ عظیم اور سلطنتوں کا خاتمہ
پہلی جنگِ عظیم (1914–1918) کے بعد یورپ میں نمایاں سیاسی تبدیلیاں آئیں:
• آسٹرو ہنگرین سلطنت بکھر گئی
• روس میں بالشویک انقلاب نے پرانے نظام کو کمزور کر دیا
• مختلف قومیتوں نے آزادی اور خودمختاری کا مطالبہ کیا

ان حالات نے رومانیہ کے تاریخی خطوں کو اپنے مقدر کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا۔
رومانی خطوں کا اتحاد
1. بیسارابیہ کا اتحاد (27 مارچ 1918)
روسی سلطنت کا حصہ رہنے والا بیسارابیہ، بالشویک انقلاب کے بعد بدامنی کا شکار ہو گیا۔
مقامی مجلس صفاتول ݜاری نے رومانیہ کے ساتھ اتحاد کے حق میں ووٹ دیا، جو قومی اتحاد کی جانب پہلا بڑا قدم تھا۔
2. بوکووینا کا اتحاد (28 نومبر 1918)
بوکووینا طویل عرصہ تک آسٹرو ہنگرین سلطنت کے ماتحت رہا۔
سلطنت کے زوال کے بعد رومانی قومی کونسل نے آزادی کا اعلان کیا اور 28 نومبر کو رومانیہ میں شمولیت کا فیصلہ ہوا۔
3. ٹرانسلوانیہ کا تاریخی فیصلہ (1 دسمبر 1918)
عظیم اتحاد کا سب سے اہم مرحلہ ٹرانسلوانیہ کا رومانیہ سے اتحاد تھا۔
البا ایولیا کی اسمبلی
یکم دسمبر کو نمائندوں اور عوام سمیت ایک لاکھ سے زائد افراد البا ایولیا میں جمع ہوئے۔
قومی اسمبلی نے تاریخی قرارداد منظور کی:
“ٹرانسلوانیہ، بنات، کریشانہ اور مارماروش کے تمام رومانی علاقے مملکتِ رومانیہ میں شامل ہوں گے۔”
یہ اعلان رومانی قوم کے صدیوں پرانے خواب کی تعبیر تھا۔
عظیم اتحاد کے نتائج
1918 کے اختتام تک:
• رومانیہ کے تمام بڑے تاریخی علاقے متحد ہو گئے
• ایک جدید اور مضبوط قومی ریاست قائم ہوئی
• رومانیہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا
• آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا
• سیاسی اور ثقافتی طور پر رومانیہ ایک متحد قوم بن گیا
عظیم اتحاد کا دن — رومانیہ کا قومی دن
آج بھی یکم دسمبر رومانیہ کا قومی دن منایا جاتا ہے، جو ان اقدار کی علامت ہے:
• اتحاد
• آزادی
• قومی شناخت