ویب ڈیسک (سی این این اردو – نئی دہلی) — انڈیا کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی ڈاکٹر روبیہ سعید کے اغوا میں پولیس کو 1989 سے مطلوب شفاعت احمد شانگلو نامی شخص کو پیر کے روز سینٹرل بیورو آف انوسٹگیشن یا سی بی آئی نے سرینگر سے گرفتار کر لیا۔ لیکن جب منگل کے روز انھیں عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے ان کے خلاف ناکافی ثبوت کی بنا پر انھیں سی بی آئی کی تحویل میں دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔
بھارت میں 36 سال قبل ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے ایک ہائی پروفائل اغوا کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی وزیرِ داخلہ کی بیٹی کے اغوا میں نامزد مرکزی ملزم کو طویل عرصے بعد گرفتار کیا گیا، تاہم ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث عدالت نے اسے رہا کر دیا۔
بی بی سی کے مطابق، یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا جب ملک میں سیاسی حالات کشیدہ تھے اور وزیرِ داخلہ کی بیٹی کا اغوا ایک بڑے قومی سانحے کے طور پر سامنے آیا۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے کئی برس کیس پر کام کیا مگر ملزم مفرور رہا۔
حالیہ ہفتوں میں ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مشتبہ شخص کو حراست میں لیا، جسے جدید فرانزک اور ریکارڈز کی بنیاد پر کیس سے جوڑا گیا۔ گرفتاری کے بعد کیس نے دوبارہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی۔
تاہم عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن ملزم کے خلاف مضبوط شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی، خصوصاً وہ ثبوت جو 36 سال بعد ناقابلِ حصول ہو چکے تھے۔ گواہوں کے بیانات بھی غیر واضح تھے، جس پر عدالت نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے پرانے مقدمات میں ثبوتوں کا ضائع ہونا اور گواہی کا کمزور ہونا ایک عام مسئلہ ہوتا ہے، جس کے باعث ملزم کو سزا دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد کیس ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے، اور عوامی سطح پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ملک کے ایک حساس ترین اغوا کیس میں انصاف کب اور کیسے ممکن ہو گا۔