اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ انسانی حقوق اور یو این ویمن کے حکام کی خواتین کی بااختیاری اور صنفی مساوات پر اہم تبادلہ خیال

اسلام آباد : (سی این این اردو)- آج وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ خواتین کی علاقائی ڈائریکٹر مس کرسٹین عرب اور ادارہ خواتین کے پاکستان میں نمائندہ جناب جمشید قاضی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں خواتین کی بااختیاری اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیر ت برائے انسانی حقوق کی ترجمان کے مطابق: وفاقی وزیر نے اس موقع پر بتایا کہ حکومتِ پاکستان خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں معاشرتی، قانونی اور معاشی سطح پر بااختیار بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ آئین، قوانین اور مختلف پالیسیوں کے ذریعے خواتین کی قومی امور میں بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، ساتھ ہی انہیں تشدد، امتیاز اور معاشی محرومی سے محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیر نے وزارتِ انسانی حقوق، نیشنل کمیشن برائے خواتین، نیشنل کمیشن برائے حقوقِ انسانی، دارالامان مراکز اور ہیلپ لائن 1099 کے فعال کردار کو بھی اجاگر کیا، جو خواتین کو قانونی، سماجی اور معاشی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

مس کرسٹین عرب نے پاکستان کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بچپن کی شادی کے خلاف قوانین، صنفی پالیسیوں پر عمل درآمد، جنس پر مبنی تشدد کی روک تھام میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور قومی جینڈر ڈیٹا پورٹل کی تشکیل جیسے اقدامات کی تعریف کی۔

ملاقات میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کی قومی پالیسی، اور مردوں و لڑکوں کو صنفی تشدد کی روک تھام کی کوششوں میں شامل کرنے کی حکمت عملی پر بھی بات چیت ہوئی۔

مس کرسٹین عرب نے خواتین کے حقوق اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے حوالے سے پاکستان کے فعال کردار کو سراہا اور حکومت کی قیادت کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے مالی بااختیاری، قانونی تحفظ اور سماجی شراکت جیسے اہم شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت، ادارہ خواتین اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صنفی مساوات کے فروغ کے لیے تیز رفتار اقدامات جاری رکھے گی۔ مس کرسٹین عرب نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے تعاون کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کوششیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار کر رہی ہیں جہاں خواتین اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں