سیئول (ویب ڈیسک) —جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے پیر کے روز 33 سالہ کم نوک وان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ وہ ایک آن لائن بلیک میلنگ نیٹ ورک چلا رہا تھا جس کے ذریعے اُس نے 261 افراد کا جنسی استحصال یا بدسلوکی کی، جن میں ایک درجن سے زائد کم عمر لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھے جنہیں اُس نے چار سال کے دوران زیادتی یا حملوں کا نشانہ بنایا۔ ملزم کو جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔
سی این این کےمطابق، سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے کہا کہ کم نوک وان کے سنگین اور سفاک جرائم کے پیشِ نظر اس کا “ہمیشہ کے لیے معاشرے سے الگ رہنا ضروری ہے”۔ عدالت نے اس کے 10 ساتھیوں کو بھی دو سے چار سال تک قید کی سزائیں سنائیں۔ حکام کے مطابق یہ ملک کا اب تک کا سب سے بڑا سائبر سیکس کرائم کیس ہے۔
بلیک میلنگ نیٹ ورک کیسے چلتا تھا؟
اگست 2020 سے کم نے ایسے افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا:
وہ خواتین جو سوشل میڈیا پر جنسی نوعیت کا مواد پوسٹ کرتی تھیں،
اور وہ مرد جو ٹیلیگرام کے خفیہ چیٹ رومز میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تھے۔
ملزم ان افراد کو اُن کے مواد کے افشا ہونے کی دھمکی دے کر مجبور کرتا کہ وہ مزید متاثرین بھرتی کریں۔ اس طرح اس نے ایک ہرمی نما بلیک میلنگ نیٹ ورک تشکیل دیا، جہاں کم اور اس کے ساتھی متاثرین کی جعلی یا تبدیل شدہ جنسی تصاویر بنا کر پھیلاتے تھے۔ زیادہ تر متاثرین کم عمر تھے۔
شرمناک جرائم کی تفصیل
عدالتی ریکارڈ کے مطابق:
کم نے 16 متاثرین کو زیادتی یا جسمانی حملے کا نشانہ بنایا، جن میں 14 کم عمر شامل تھے۔
13 واقعات کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کی گئیں۔
تقریباً 1,700 چھبی دار یا استحصالی تصاویر/ویڈیوز تیار کی گئیں۔
ان میں سے 260 فائلیں آن لائن پھیلائیں تاکہ مزاحمت کرنے والوں کو ڈرایا جاسکے۔
ملزم نے بعض متاثرین کے اہل خانہ اور ملازمین کو بھی بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
ساتھی ملزمان بھی ملوث تھے
دیگر ملزمان — جن میں پانچ کم عمر بھی شامل ہیں — جانتے تھے کہ وہ جنہیں بھرتی کر رہے ہیں انہیں بھی اسی طرح کے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر وہ اپنی تصاویر پھیلنے کے خوف سے ایسا کرتے رہے۔
عدالت کا ردِ عمل
عدالت نے کہا:
“زیادہ تر متاثرین بچے یا نوعمر تھے، اور ان جرائم نے انہیں شدید جسمانی و ذہنی اذیت میں مبتلا کیا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ آن لائن جنسی جرائم میں نقصان بہت تیزی سے بڑھتا ہے، اور ایک بار مواد پھیل جائے تو اسے مکمل طور پر ہٹانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، جو متاثرین کی بحالی کو مشکل بنا دیتا ہے۔
ملک میں شدید عوامی ردِ عمل
کم کی گرفتاری اور انکشافات کے بعد ملک میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ تقریباً پانچ سال بعد آیا ہے جب اسی عدالت نے جو جو بن کو درجنوں خواتین، بشمول کم عمر لڑکیوں، کو جنسی ویڈیوز بنانے پر مجبور کرنے اور انہیں فروخت کرنے پر 40 سال قید کی سزا سنائی تھی۔