برطانوی صحافی سیمی حمدی کی 18 روزہ امریکی حراست؛ “آزادی اظہار پر حملہ” قرار

ویب ڈیسک (سی این این اردو): برطانوی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سیمی حمدی، جنہیں امریکی امیگریشن حکام نے تقریباً 18 دن تک حراست میں رکھا، برطانیہ واپسی پر اس واقعے کو “عام شہریوں کی آزادیوں پر حملہ” قرار دیا۔

حمدی کو 26 اکتوبر کو سان فرانسسکو ایئرپورٹ پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے اس وقت حراست میں لیا جب وہ فلوریڈا ایک تقریری تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ حکام نے انہیں بتایا کہ ان کا ویزا منسوخ ہوچکا ہے اور وہ امریکہ میں “غیر قانونی طور پر” موجود ہیں، مگر حمدی کے مطابق ان کا ویزا مکمل طور پر درست تھا اور انہیں منسوخی کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

برطانوی صحافی سیمی حمدی 18 دن کی امریکی ICE حراست کے بعد برطانیہ واپس پہنچے اور اس واقعے کو آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا۔

سی این این کے مطابق، حمدی نے بتایا کہ امیگریشن اہلکاروں نے انہیں طیارے سے پہلے روک کر ویزا منسوخی کا ایک میمو دکھایا، جس میں وجہ درج نہیں تھی۔ انہوں نے اہلکاروں سے کہا کہ اگر کوئی قانونی جواز نہیں تو وہ واپس لندن روانہ ہوجائیں گے، لیکن حکام نے انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر دور دراز ICE مرکز منتقل کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ہاتھ اور پیروں میں بیڑیاں لگا کر کئی گھنٹے کے سفر کے بعد جس مرکز میں رکھا گیا، وہاں سخت اور غیر انسانی حالات تھے۔ ان کے مطابق وہاں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو بغیر الزام کے حراست میں رکھا گیا تھا۔

حمدی، جو مشرق وسطیٰ پر تجزیوں اور فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، کا دعویٰ ہے کہ ان کی گرفتاری سیاسی انتقام تھی کیونکہ وہ غزہ کی صورتحال پر کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام نے کہا کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد قومی سلامتی پالیسی کے مطابق کیا جاتا ہے اور مخصوص کیسز پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

حمدی کے مطابق کچھ سیاسی شخصیات نے ان کے خلاف دباؤ ڈالا اور انہیں شدت پسند قرار دیا، جبکہ شہری آزادیوں کے گروہوں نے ان کی گرفتاری کو آزادی اظہار کے خلاف اقدام قرار دیا۔

وہ اس واقعے کے بعد قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، لیکن ان کے مطابق اصل کامیابی یہ ہے کہ “میرے مؤقف کو خاموش نہ کیا جاسکا۔”

اپنی رہائی کے بعد انہوں نے کہا کہ اصل توجہ غزہ میں انسانی بحران پر ہونی چاہیے، نہ کہ ان کی شخصیت پر۔ ان کا کہنا تھا:
“میں کہانی نہیں ہوں۔ کہانی وہ بچوں کی ہے جن کے جسم کے ٹکڑے ہوئے، وہ بے گناہ لوگ ہیں جو جنگ کا نشانہ بنے۔”

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں