اسلام آباد : (سی این این اردو) — سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدِّین خان جو 30 نومبر کو ریٹائر ہو رہے تھے، انہیں آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ان کی مدتِ خدمات میں اضافہ ہو جائے گا کیونکہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جگہ آئینی عدالت قائم کی گئی ہے۔
اس موقع پر کل چیف جسٹس ہاؤس میں ایک اعزازی عشائیہ منعقد کیا جائے گا جس کا اہتمام جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کیا ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جگہ آئینی عدالت قائم ہو گی اور جسٹس امین الدِّین خان اس کے پہلے چیف جسٹس بنیں گے۔
پیدائش و تعلیم: جسٹس امین الدِّین خان کا جنم 1 دسمبر 1960 کو ملتان میں ہوا۔
ابتدائی تعلیم Kinder Garten Muslim School اور Government Muslim High School، ملتان سے حاصل کی۔
فلسفے میں بیچلر ڈگری 1981 میں حاصل کی اور 1984 میں University Law College، ملتان سے ایل ایل بی کی ڈگری اور ٹیکسیشن کا ڈپلومہ کیا۔
قانونی کیریئر: 1985 میں نچلی عدالتوں میں وکالت کا آغاز کیا۔
1987 میں لاہور ہائی کورٹ کے وکیل اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل مقرر ہوئے۔
12 مئی 2011 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج اور 22 اکتوبر 2019 کو سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔
عدالتی خدمات: سول مقدمات، جائیداد، ارث و استحقاق، حقوق العباد میں اہم کردار ادا کیا۔
20 مئی 2025 کو اہم آئینی فیصلے میں کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد ایک چھوٹا بینچ بھی کیسز کا جائزہ لے سکتا ہے۔