وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کے زیرِ اہتمام منعقدہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے جامع معاشی اصلاحات اور صنعتی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔
بدھ کے روز منعقدہ فورم سے خطاب میں ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان آج اپنی معاشی تاریخ کے ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں حکومت قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی اور باقاعدہ اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا، “اقتصادی استحکام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اسے مستقل مزاجی، شفافیت اور قابلیت سے تعمیر کیا جاتا ہے،”
انہوں نے بتایا کہ نئی نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت پاکستان تحفظ پسندی سے نکل کر مسابقت کی معیشت کی جانب گامزن ہے۔ تمام اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کی جا رہی ہیں۔
ہم ٹیرف کو برآمدی ترقی کے انجن میں بدل رہے ہیں، نہ کہ تجارت کی راہ میں رکاوٹ میں۔”
یہ پالیسی صنعتوں کے لیے رواں مالی سال میں 175 ارب روپے کی سالانہ بچت کا باعث بنے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی ویلیو ایڈڈ اور ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں کو فروغ دیتی ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیاں، کیمیکل اور گرین ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
“جہاں بعض ممالک ٹیرف کو ہتھیار بناتے ہیں، وہاں پاکستان انہیں معقول بنا کر لاگت کم، استعداد بڑھا کر عالمی ویلیو چینز میں شمولیت کی راہ ہموار کر رہا ہے،” انہوں نے کہا۔
ہارون اختر خان نے
بتایا کہ تین اصلاحاتی پیکجز کے تحت 465 ریگولیٹری سادہ کاری اقدامات کیے جا چکے ہیں، جن سے کاروباری طبقے کو سالانہ 250 ارب روپے سے زائد کی بچت ہو رہی ہے۔
جبکہ آسان کاروبار ایکٹ 2025” ان اصلاحات کو قانونی حیثیت دے گا۔
ہارون اختر خان نے کہا نیشنل انڈسٹریل پالیسی 2025 اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف بی آر اور بڑے چیمبرز کے ساتھ 60 سے زائد مشاورتی اجلاسوں کے بعد تیار کی گئی، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا، پیداوار میں اضافہ کرنا، اور پاکستان کو علاقائی و عالمی ویلیو چینز میں ضم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا نیشنل انڈسٹریل ریوائیول کمیشن (NIRC) کے قیام سے شراکت داری، انضمام اور نئے صنعتی مواقع کو فروغ ملے گا۔ حکومت کاروبار دوست ماحول کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔
“کاروباری طبقے کے لیے ریگولیٹری مداخلت کم کی جا رہی ہے، شکایات کا نظام مضبوط بنایا جارہا ہے اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ تعمیل خوف کے بجائے تعاون کے ذریعے حاصل ہو،” انہوں نے کہا۔
ہارون اختر خان نے بتایا ہائی ٹیک گرین فیلڈ صنعتوں جیسے الیکٹرک گاڑیاں، بیٹریاں، اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے ترجیحی بجلی نرخ شامل ہیں، جبکہ سپر ٹیکس کے خاتمے اور متوازن، ترقی پسند ٹیکس نظام کے قیام پر بھی عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم تحفظ پسندی سے پیداواریت، وقتی مراعات سے کارکردگی پر مبنی انعامات، اور درآمدی انحصار سے ویلیو ایڈیشن کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم صرف فیکٹریاں نہیں چلا رہے بلکہ اُس جذبۂ صنعت کاری کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں جس نے کبھی پاکستان کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی صنعتی طاقت بنایا تھا۔”
انہوں نے کہا اکیسویں صدی کی مسابقت کا دارومدار جدت، ریگولیٹری استعداد، گرین ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹل انضمام پر ہے، اور حکومت نےنجی شعبے اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ طور پر پائیدار ترقی اور خوشحالی کے سفر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔خوشحالی کا سفر نہ آسان ہے نہ فوری، مگر جیسا کہ کہا گیا ہے: درخت لگانے کا بہترین وقت بیس سال پہلے تھا دوسرا بہترین وقت آج ہے۔”