اسلام آباد (سی این این اردو) — گلگت بلتستان میں نگران حکومت کے قیام کے لیے شہر اقتدار میں مشاورت جاری ہے اور ایک اطلاع کے مطابق میر مصطفی مدنی کا نام اس حوالے سے سر فہرست ہے۔
گلگت بلتستان میں منتخب حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد اقتدار کے بااثر حلقوں میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے نگران سیٹ اپ پر غور کیا جا رہا ہے، اور موجودہ مشاورت میں میر مصطفی مدنی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
میر مصطفی مدنی گلگت کے علاقے کشروٹ سے تعلق رکھنے والے میر ولی کے فرزند ہیں اور ایک باصلاحیت نوجوان، سیاسی شعور رکھنے والے اور سماجی خدمات میں تجربہ کار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان اور اس کے اداروں سے بے حد محبت رکھتے ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔
ان کے پاس سیاسی امور، شہری ترقی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں وسیع تجربہ موجود ہے۔ انہوں نے استنبول میں پاکستان-ترکی معدنیات کے تعاون کی قیادت کی اور ویسٹ افریقہ پاکستان کمیونٹی (WAPC) کی بنیاد رکھی۔
میر مصطفی مدنی کا موقف ہے کہ پاک فوج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے جرات، اتحاد اور ایمان کی علامت ہے، اور وہ ملک کے دفاع کی مضبوط ڈھال کے طور پر اس کے کردار کو سراہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، نگران وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا، لیکن میر مصطفی مدنی اس وقت اس عہدے کے لیے سب سے مضبوط اور مقبول امیدوار ہیں۔