سی این این اردو (ویب ڈیسک)ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کی رفتار میں اضافہ جاری رہنے سے دنیا ایک انتہائی خطرناک مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ نئی رپورٹس کے مطابق، اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو میگا سٹیز میں سمندری پانی کے اضافے سے سیلاب، پہاڑوں پر گلیشیئر کے مکمل خاتمے، آئس شیٹس کے ٹوٹنے اور سمندری ریفس کے مردہ ہونے جیسے نتائج سامنے آئیں گے۔
گزشتہ تین دہائیوں میں عالمی ماحول کے تحفظ کے اقدامات نے آلودگی میں اضافے کی رفتار کو سست کیا ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ 2015 میں پیرس معاہدے کے تحت دنیا نے عالمی درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب سے قبل کے درجے سے صرف 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا عہد کیا تھا۔ لیکن حالیہ رپورٹس کے مطابق، حکومتوں کے منصوبے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہیں اور موجودہ توانائی کے استعمال کی وجہ سے یہ حد اب “دور از دسترس” بن چکی ہے۔
سی این این کے مطابق ، اقوام متحدہ کی حالیہ “ایمیشنز گیپ” رپورٹ کے مطابق، اگر موجودہ وعدے پوری کیے جائیں تو اس صدی کے آخر تک عالمی درجہ حرارت 2.3 سے 2.5 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے، اور اگر اقدامات ناکافی رہے تو یہ 2.8 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے، جس میں 3 ڈگری کے عبور کا 20 فیصد امکان ہے۔
اب تک دنیا تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہو چکی ہے اور اس دوران شدید ہیٹ ویوز، سیلاب اور خشک سالی جیسے غیر معمولی موسمی مظاہر سامنے آچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 2 سے 3 ڈگری تک کا درجہ حرارت انتہائی خطرناک ہوگا، جس کے نتیجے میں سمندری سطح میں اضافہ، بڑے شہروں کا خطرے میں آنا، پہاڑی گلیشیئر کا خاتمہ اور گرین لینڈ و اینٹارکٹیکا کے آئس شیٹس میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔
ماہرین زور دے رہے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ وہ اس کے لیے وسائل اور موافقت کے مواقع سب سے کم رکھتے ہیں۔ موجودہ موسمی اور ماحولیاتی مظاہر پہلے ہی دنیا کے لیے خطرناک ہیں، جیسے امریکہ اور کینیڈا کی جنگلات کی آگ، پاکستان کی ہیٹ ویوز اور ویتنام میں تباہ کن سیلاب۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، مگر عالمی درجہ حرارت کو محفوظ سطح تک محدود کرنے کے کوئی ممکنہ راستے اب نہیں بچے۔ ہر اضافہ شدید اثرات پیدا کر سکتا ہے اور 2 سے 3 ڈگری تک کا درجہ حرارت دنیا کے لیے غیر محفوظ اور خطرناک ہوگا۔