پاکستان کے کثیر التعداد نوجوانوں کے لیے علیحدہ وزارت کا قیام ناگزیر ہے ڈاکٹر وحید احمد

ناموافق حالات کے سبب نوجوانوں کی کثیر تعداد کی بیرون ملک ہجرت پر حکومت سنجیدگی سے توجہ دے؛سینئر صحافی عفت رؤف

اسلام آباد : (سی این این اردو) الحمد اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے زیر اہتمام قومی سیمینار بعنوان” ملک و قوم کی تشکیل و تعمیر میں نوجوانوں کا کردار” کا انعقاد کیا گیا نظامت کے فرائض شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر شیر علی نے بخوبی سرانجام دئیے سیمینار کی صدارت ممتاز دانشور و شاعر ،سابق ملٹری اکاؤنٹٹ جنرل ڈاکٹر وحید احمد نے فرمائی۔جب کہ مہمانان خصوصی میں جناب سعید اختر ملک، پروفیسر ڈاکٹر طاہر نعیم ملک، محترمہ عفت رؤف، جناب نعیم اشرف تھے مہمان اعزاز مغیزہ امتیاز تھیں

سیمینار کے مقررین نے تفصیل کے ساتھ ملک و قوم کی تشکیل و تعمیر میں نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔
ایم فل کے طلبہ و طالبات نے گہری دلچسپی اور انہماک کے ساتھ تمام مقررین کی تقاریر سنیں، جو نوجوانوں کے کردار، قیادت اور سماجی ذمہ داریوں پر مبنی تھیں۔شاعر و دانشور ڈاکٹر وحید احمد نے پاکستان کے 64 فیصد نوجوانوں کے لیے علیحدہ وزارت کے قیام کو ناگزیر قرار دیا سعید اختر ملک سابق ڈی جی ایرا نے کہا کہ پاکستانی ہنرمندوں اور کاریگروں کی بیرون ملک مانگ بڑھ رہی ہے لیکن یہی طبقہ اب اپنے ملک میں نظر نہیں آ رہا چیئرپرسن پاکستان یوتھ لیگ والنٹیئر فورم عفت رؤف نے کہا کہ نوجوانوں کو ملک میں ناموافق حالات کے سبب بیرون ملک ہجرت کرنا پڑ رہی ہے ہماری آبادی کا 64 فیصد 25 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے انھیں کسی بھی شعبے میں اولین ترجیح دی جائے تاکہ وہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں سابق سینئر نائب صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ سمال انڈسٹریز ماہر تعلیم نعیم اشرف نے کہا کہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے علاوہ تجارت میں حصہ لینے کے لیے تربیت دی جائے اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں دقیانوسی نصاب تعلیم کی جگہ جدید تعلیمی نصاب متعارف کرایا جائے اور منصوبہ سازی کے تحت ڈگری ہولڈرز کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں ملازمت نہ ملنا مایوسی کا اصل سبب ہے اسی باعث نوجوانوں ملک بدری پر مجبور ہیں معیزہ امتیاز نے کہا کہ ملک میں بدعنوانی کا راج ہے تعلقات کے بغیر نہ موقع ملتا ہے نہ روزگار ۔۔ پاکستان یوتھ لیگ والنٹیئر فورم کی جانب سے اساتذہ میں یادگاری شیلڈز بدست صاحب صدر تقسیم کی گئیں

تقریب کے اختتام پر الحمد اسلامک یونیورسٹی کے دلکش کیفے ٹیریا میں، جو جھیل کے کنارے سرسبز پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے، شرکائے تقریب کے اعزاز میں پُرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔

ڈاکٹر شیر علی کی اس علمی اور فکری کاوش کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ وہ نہ صرف تدریسی و نصابی سرگرمیوں میں طلبہ کی رہنمائی کر رہے ہیں بلکہ “مکالمے” کی مثبت اور تعمیری روایت کو فروغ دے کر نوجوانوں میں فکری روشن خیالی اور قائدانہ صلاحیتیں بیدار کر رہے ہیں، جو یقیناً قابلِ تقلید اور قابلِ ستائش ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں