اسلام آباد، 23 ستمبر 2025ءروس کے سفیر البرٹ پی. خورِف نے 23 ستمبر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوکرین تنازع پر ماسکو کے مؤقف، جاری مذاکرات اور بین الاقوامی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ روس امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے، تاہم یوکرین اور اس کے مغربی حمایتی مستقل طور پر اس عمل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں
سفیر کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن نے مئی 2025ء میں براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کیے، جو اپریل 2022ء سے رکے ہوئے تھے۔ تین دور کے مذاکرات میں قیدیوں کے تبادلے میں پیش رفت ہوئی، لیکن جنگ بندی کے عملی طریقہ کار پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔
خورِف نے کہا کہ یوکرین نے رواں برس تین مختلف مواقع پر عارضی جنگ بندی کی پاسداری نہیں کی — مارچ میں توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کا معاہدہ، اپریل کی عیدِ ایسٹر کی جنگ بندی، اور مئی میں جنگِ عظیم دوم کی فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر اعلان کردہ وقفہ۔
جنگ بندی یا دوبارہ مسلح ہونا؟
ان کے مطابق یوکرین اور یورپی ممالک جنگ بندی کو امن کے بجائے اپنی فوج کو دوبارہ مسلح کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک مغرب نے تقریباً 70.2 ارب ڈالر کی فوجی و مالی مدد فراہم کی ہے۔
انہوں نے 2015ء کے منسک معاہدوں کو مثال کے طور پر پیش کیا، جنہیں یوکرین نے اصل مقصد کے بجائے فوجی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔
پیوٹن۔زیلنسکی ملاقات کا سوال
سفیر نے صدر پیوٹن اور ولادیمیر زیلنسکی کی ممکنہ ملاقات کے مطالبے کو “سیاسی چال” قرار دیا۔ ان کے مطابق زیلنسکی کی آئینی مدت مئی 2024ء میں ختم ہو چکی ہے اور وہ اس ملاقات کے ذریعے اپنی سیاسی حیثیت بحال کرنا چاہتے ہیں۔
“روس تماشہ بازی نہیں چاہتا، بلکہ پائیدار امن کے لیے بنیادی مسائل حل کرنے پر پیشہ ورانہ گفتگو کا خواہاں ہے۔”
مذاکرات میں اب تک کی کامیابیاں
خورِف نے حالیہ مذاکرات میں حاصل ہونے والی چند نمایاں کامیابیاں بیان کیں:
قیدیوں کا تبادلہ: مئی 2025ء سے اب تک 1,000 سے زائد قیدیوں کا تبادلہ۔
لاشوں کی واپسی: یوکرین کے 6,060 فوجیوں کی باقیات واپس کی گئیں، جبکہ روس کو 78 لاشیں ملیں۔
بچوں کا معاملہ: روس میں مبینہ طور پر 19 ہزار بچوں کے اغوا کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے صرف 339 کیسز کی تصدیق۔
مشترکہ ورکنگ گروپ: جنگ بندی کے لیے مرحلہ وار منصوبہ تیار کرنے پر اتفاق۔
دہشت گردی، سیاست اور تاریخ کا تنازع
سفیر نے یوکرین پر روسی علاقوں میں دہشت گردی کا الزام عائد کیا، جس میں مئی اور جون کے حملوں کے نتیجے میں سات شہری جاں بحق اور 122 زخمی ہوئے۔ انہوں نے یوکرین کی حالیہ “قانون برائے تاریخی یادداشت” کو روس مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نازی حامیوں کی تعریف کی جا رہی ہے اور سوویت ورثہ مٹایا جا رہا ہے۔
ان کے بقول مارشل لا نے یوکرین میں ایک آمرانہ نظام کو جنم دیا ہے، جس میں سنسرشپ، سیاسی مخالفین کی گرفتاری اور جبری فوجی بھرتی شامل ہے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی منظرنامہ
خورِف نے اقوامِ متحدہ کی قیادت پر مغرب نوازی کا الزام لگایا اور کہا کہ یوکرین تنازع پر جانبدارانہ رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مسائل، خاص طور پر مقبوضہ بیت المقدس اور گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی خاموشی کو دوہرے معیار کی مثال قرار دیا۔
انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ 2024ء میں 119 ممالک، بشمول پاکستان، نے روس کی قرارداد کی حمایت کی تھی جو نازی ازم کی تعریف کی مخالفت میں پیش کی گئی تھی۔
امریکا۔روس مذاکرات اور مغربی ردعمل
امریکا کے شہر اینکریج میں پیوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے خورِف نے کہا کہ دونوں نے امن کے لیے لچک دکھائی، تاہم زیلنسکی اور یورپی ممالک نے اس عمل کو سبوتاژ کیا۔ ان کے مطابق نیٹو کے ممکنہ فوجی کردار اور مغربی مالی ڈھانچوں کا مقصد جنگ کو طول دینا ہے۔
انہوں نے پولینڈ میں روسی ڈرونز کی خبروں کو “بلاوجہ کا شور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کا نیٹو ممالک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
پاکستان کے کردار کی تعریف
آخر میں سفیر خورِف نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اقوامِ متحدہ سمیت ہر سطح پر دباؤ کے باوجود غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی اور ہمیشہ سفارتی حل کی حمایت کی۔