فلاحی ادارہSACHET یرغمال بنا لیا گیا کروڑوں خورد برد، عملہ کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنے کی دھمکیاں

اسلام آباد:فلاحی ادارے SACHET کو جعلی دستاویزات کے ماہر فیصل نامی شخص نے یرغمال بنا لیا۔ SACHET کی اسسٹنٹ منیجر پروگرام اینڈ فنانس چمن حسین،اکاونٹس آفیسر عمر مقصود، کوارڈینیٹر سائرہ اشرف، اسسٹنٹ مینیجر صائمہ بشیر اور لیگل ایڈوائزر نےحکومت پاکستان، ایس ای سی پی، ایف بی آر، اور ایف آئی اے سے فلاحی ادارے SACHET میں بڑے پیمانے کی خورد برد کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا محسن پاکستان عبدالقیدیر خان کے بنائے اس ادارے کو لوٹ کھسوٹ کے زریعے تباہ ہونے سے بچایا جائے۔

بدھ کے روز اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے SACHET کے عملہ نے بتایا کہ ادراے میں مریم علی، حارث سعید، شمائل، نوشین خان، فیصل لغاری اور محمد فیصل کو غیر قانونی طور پر ضابطہ کے خلاف ملازمت دے کے اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔جبکہ ایک ہی خاندان کے تمام افراد کو دستخط کرنے کا مجاز بنا دیا گیا ہے۔

گذشتہ چند ماہ سے ادارے کو سنگین مالی بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عملے کو ہراساں کرنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اپریل 2025 میں ادارے کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر دینا خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں غیر متعلقہ افراد کو ادارے کے عملے پر بطور نگران مسلط کیا گیا اور عملے کی توہین کی گئی۔

مئی اور جون میں ادارے کے اینڈرولمنٹ فنڈ کو غیر قانونی طور پرذاتی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیا گیا،جس پر کمپنی کے سیکرٹری عاطف اور لیگل ایڈوائزر راجہ ظفر خالق نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور پھر کمپنی سیکرٹری عاطف نے استعفیٰ دیدیا جبکہ لیگل ایڈوائزر راجہ ظفر خالق کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا،ذاتی گاڑی کی خریداری کیلئے ادارے کا اکاؤنٹس سے دو کروڑ تیس لاکھ روپے نکوالے گئے جنہیں آڈیٹر اور دیگر ملوث افراد کی مدد سے جعلی دستاویزات کے زریعے قانونی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، بعد ازاں یہ فنڈز دوبارہ ادارے کے اکاؤنٹ مین منتقل ہوئے تاہم انہیں پھر ایک جعلی کمپنی کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا،

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ غیر حقیقی اور ٹیکس چوری پر مبنی معاہدے کئے گئے، ستمبر میں اکاونٹس آفیسر نے غیر قانونی احکامات اور دباو کے خلاف استعفیٰ دیا جسے غیر قانونی طریقے سے فوری طور پر منظور کر کے انکے دفتر کے تالے تبدیل کر دیئے گئے،اور عملے کو دفتر میں داخلے سے روک دیا گیا اور ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔جبکہ خواتین اور مرد عملہ کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنے کی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے ہر مجبور کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا چیف ڈائریکٹر آفیسر کی طرف سے اتنے واضح غیر قانونی اقدامات کی توقع نہیں ہے۔تاہم دینا خان یہ تمام اقدامات فیصل نامی شخص کے احکامات پر کر رہی ہیں۔جس سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ ایک غیر متعلقہ شخص فیصل ان کو شائد بلیک میل کر کے غیر قانونی امور ہر مجبور کر رہا ہے۔تفتیشی ادارے اگر بروقت کاروائی کریں تو دینا خان کو فیصل کی بلیک میلنگ سے نجات دینے کے ساتھ ساتھ ادارے کو تباہی سے بچایا جا سکتا ہے.

انہوں نے بتایا ادارے میں ہونے والی کرپشن کو چھپانے اور دیانت دار عملے کو زبردستی خاموش کرانے کی کوشش ہے، ہم حکومت سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے فلاحی ادارے SACHET کے ؐمعاملے میں شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ییں ۔تا کہ اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچاکر فلاحی ادارے کو بچایا جا سکے۔

فلاحی ادارے میں بڑے پیمانے پر خورد برد کے خلاف بدھ کے روز SACHET کے اہم عہدے داروں کی طرف سے پریس کانفرنس کے بعد جمعرات کے روز وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے میں بھی شکایت درج کروا دی گئی ہے۔

سی این این اردو نے SACHET کی چیف ڈائریکٹر آفیسر دینا خان سے ان تمام الزامات اور ادارے میں غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا، تاہم دینا خان نے کہا کہ وہ SACHET کے عملہ کی پریس کانفرنس سے مکمل آگاہ ہیں مگر زرائع ابلاغ کے ساتھ معاملات پر گفتگو نہیں کریں گی.انہوں نے کہا پریس کانفرنس اور قانونی معاملات دونوں کا سامنا ان کا وکیل کرے گا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں