تیری اور اس کی بربریت

ہم شاید ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہیں ہیں جہاں دوہرے نہیں، سیکڑوں قسم کے معیارات ہیں۔ سوچ، بات ، عمل اور نظر یے بھی اپنے اپنے ہیں۔ اب یہ بات کہنا کہ یہ تو انسانی فطرت ہے اتنا آسان نہ ھے چونکہ نظریات کا تعمیر پسندانہ ہونے اور آگ کو اپنے دامن سے چھڑا کر درو دیوار سے لپٹے ہوئے پردوں پر جھونک دینا، فکری تفریق نہیں ہو سکتی جبکہ اسے خود غرضی کہا جاسکتا ہے۔

اب خود عرضی پر سے چادر نقاب اتاری جائے تو ایک عقدہ یہ کھلتا ہے کہ انسانی سرشت توشاید یا یقینا غرض مندی کا آئنہ دار ہے۔ اب اس تفصیل میں جانا تو یہاں ممکن نہیں کہ انسانی فطرت کی پرتیں کیسے کر چاک کی جائیں اور اندرونی معدوں کو کیسے سمجھا جائے ، ایسا کرنا شاید ممکن ہی نہ ہو۔

بحر حال اگر واپس اختلاف نظریات اور خود کو بری الذمہ ٹھہرانے کے مابین تفریق کی بات کی جائے تو شاید جواب میں غرض مندی جیت جائے مگر کیا ایسا کرنا اخلاقیات / انسانیت اور انصاف کے معیار پر اتر سکتا ہے جس کا جواب شاید نہ ہی ہو۔

پچھلے دنوں ایک واقعہ بلوچستان میں رونما ہوا، جس
پر سب نے اپنی اپنی دانشوری پیش فرمائی ۔ ایک کہرام یہ تھا کہ مردوں کے حقوق اور عورتوں کی غیرت کہاں گئی۔ مرد کو بھی کسی خاتوں کے ہاتھوں مارنا چاہیئے تھا، ان کی شادی نہ ہوئی تھی وغیرہ وغیرہ، شادی نہ ہونے والی بات پر میرا اعتراض بس اتنا ھے کر وزیر اعلی بلوچستان کو اس قسم کا بیان نہیں دینا چاہئے تھا ۔

مگر واقعے کی حقیقت جو بھی ہو جو ہوا انتہائی برا ہوا، پر یہ کوئی بربریت کا ایک نیا باب ہرگز نہیں تھا کوئی ایسی انہونی نہیں تھی جس سے اسلام آباد میں بیٹھا کافی پیتے ہوئے سوشل میڈیا پر دانشوری کرتا ہوا شخص لا علم ہو یا ایسا بھی ہرگز نہیں تھا کہ نوشکی، روجھان ، دھیر کوٹ، جوبی میں بیٹھا عام سفید پوش کم تعلیم یافتہ نہ جانتا ہو ۔

میں نے یہ بات بڑی جرأت کرتے ہوئے کی ہے کہ جو ہوا وہ کوئی انہونی نہ تھی، یہ بات کرنے کا ہرگز تاثر یہ نہیں کہ مجھے اس واقعے سے ہمدری نہیں یا مجھے افسوس نہیں ہوا مگر جو بات قابل غور اور قابل تفکر ہے وہ یہ ہے کہ وہ “تیری اور اس کی بربریت تھی” باقی ہم سب بھلا بیٹھے ہیں کہ ہم کون ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں۔ ہم جب انسانی حقوق کے مائی بابا بنے اور دانشوری کی بوچھاڑ کرنا شروع کی تویہ بھلا بیٹھے کہ میں کتنا بڑا ظالم ہوں یا اور کتنے مظالم پر مصلحتا خاموش ہوں شاید شریک جرم ہوں؟

ہاں اگر ایک عام آدمی کی بات کریں جو شاید یہ کہے کہ میں ظالم جاگیردار، ظالم سرمایہ دار، ظالم بابو ، ظالم حاکم، ظالم قاضی ، ظالم سپاہی ظالم طاقت ور نہ ہوں؟ تو اس پر سوال اٹھتا ہے کہ یہ جن چند ظالموں کا میں نے تذکرہ کیا ھے ان کے مظالم کے بارے میں کیا ہم بات کرتے ہیں؟ کیا وزیر اعلی صاحب بیان دیتے ہیں؟ کہ فلاں وزیر صاحب کا فلاں خاتون کے ساتھ نکاح نہیں ہے۔ یا لاہور، راولپنڈی کراچی میں اسی طرز کے یا اس سے شدید واقعات ، گینگ وار کا شکار ہوتے ہوئے خاندان نہیں ہیں، ان پر ہم کیوں خاموش ہیں؟ شاید اس لیے کہ سوشل میڈیا پر “کپل وائب” بڑی ہٹ ہوتی ہے، ہینڈسم لوگ نہیں مرنے چاہئیں، کالا غریب بھلے مار دیا جائے یا مروا دیا جائے پروا نہیں۔ شاید یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے سوشل میڈیا صارفین تو خوبصورتی دیکھ کر کیمرون ہیرن کو سزا ہونے پر بڑا نالاں اور افسردہ تھے جبکہ مجید اچکزئی ہینڈسم نہ ہونے کی بنا پر زد تنقید رہے۔۔۔

سب اپنی بربربیت کو بھلا کر دوسرے کی بربریت کو چاک کرنے میں لگے ہیں کیا ریاستی دہشت گردی پر بھی کسی وزیراعلی نے بیان دیا ھے ۔ کیوں دیں گے کیونکہ وہ توان کی اپنی بربریت ھے مگر یہاں بات تو تیری اور اس کی بربریت کی ہو رہی ہے، شاہ تو حکم دیتا ہے بربریت کہاں ہوتی ہے حاکم کا انصاف ہوتا ہے چاہے تو حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کر دینے کا سلطانی فرمان ہی کیوں نہ ہو، آخر وزیر اعلی کے خلاف بغاوت کیسے ہوئی، ہاں مگر سردار کے سامنے بغاوت کرنا نوبل انعام لینے کے مترادف ہے ۔

یا سوال یہ ہے کہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اس جاگیدارانہ بربریت کو “آنر کلنگ” میں بدل دیا گیا ہے، اسے
صرف ایک خاص قسم کے محرکات سے نتھی کرتے ہوئے قالین کے نیچے دفن کرنا بھی ایک پرانی روش ہے کہ جس سے ہماری تاریخ لت پت ہے اور کوئی ایسا تاریخ کا ورق نہیں کہ جو خوں سے تر بتر نہ ہو ۔

یا پھر ایسا ھے کہ بلوچستان کے قبائلیوں کی شمولیت کی بنا پر ایک موقع مل گیا ھے کہ سرداروں کو ایک بار انسانی حقوق کے حصول کے ڈرامے کے لیے پھر سے روندا جائے ، مگر حقیقت تو یہ رہی ہے کہ انہیں سرداروں سے عالمی سر براہان جو انسانی حقوق کے مائی بابا کہلائے جاتے ہیں آکر ملتے رہےہیں، ان کی شان و شوکت دیکھتے رہے ہیں شکار ، گھڑسواری اور نشانہ بازی سے لطف اٹھاتے رہے ہیں ۔ حقیقتا تو وہ بھی انسانی حقوق کے داروغہ نہیں ہیں!! انسانی حقوق تو وہ بھی نہیں جانتے۔

یا پھر یوں کہیے کہ یہ سارے عقدے تب کھلیں گے جب تماشہ ختم ہوگا۔

بات طاقت سے شروع ہوتی ہوئی طاقت پر اختتام پزیر ہو جاتی ہے، مگر ہم مباحثوں میں الجھا دیے جاتے ہیں کہ عورت کے حقوق، مرد کے حقوق، پنجاب کے حقوق، بلوچستان کے حقوق مگر حقوق اگر کہیں محفوظ ہیں تو وہ ایوانوں میں ہیں، محلات میں ہیں، حویلیوں میں ہیں یا ڈیروں پر ہیں، بس جہاں دھن ہے وہاں حقوق ہیں جہاں فقر ہے وہاں آنسوؤں کے سالن اور غموں کی روٹی کے سوا ٹرک کی بتی ہے؛ جو آج کے اس نئے زمانے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے سحر انگیز ٹرنڈز ہیں جہاں انقلابی آتش فشاں تعمیر بھی ہوتے ہیں اور مسمار بھی ہو جاتے ہیں۔


نوٹ : اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آرا مصنف کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ادارے کے پالیسی یا پوزیشن کی عکاسی کریں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں