بارانی زرعی یونیورسٹی میں این سی آئی بی کی سیاب میٹنگ اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

بارانی زرعی یونیورسٹی میں این سی آئی بی کی سیاب میٹنگ اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں پی ایس ڈی پی کی مالی معاونت سے قائم ہونے والے نیشنل سنٹر آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی نے اپنے سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ایڈوائزری بورڈ کی دوسری میٹنگ کا انعقاد کیا۔ اس کا مقصد سنٹر کی کارکردگی، مستقبل کے اہداف اور اکیڈمیا انڈسٹری روابط کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر بارانی زرعی یونیورسٹی کے نیشنل سنٹر آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی نے چار مختلف انڈسٹریز جن میں شیماڈزو اینڈ ولی گروپ، بائیوڈائین، آربٹ سیڈس اور انفنٹی گرو شامل ہیں کے ساتھ باہمی شراکت داری اور مختلف تحقیقی و تجارتی مقاصد کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے۔

وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کا کہنا تھا کہ اس سنٹر کے قیام کا مقصد دراصل پاکستان کی بایو اکانومی اور پائیدار زرعی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے اپلائیڈ ریسرچ کو آگے بڑھانا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں اس سنٹر کا قیام دراصل پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی، اور ڈائریکٹر اورک کی کاوشوں اور مشترکہ عزم کا نتیجہ ہے۔ اس سنٹر میں تمام جدید سہولیات اور مشینری موجود ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے اہم تحقیقی سرگرمیاں جاری ہیں۔

این سی آئی بی کی ٹیکنیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عابدہ رضا نے سینٹر کا روڈ میپ اور پائیداری کا منصوبہ پیش کیا، جس میں صنعت کی شراکت کے لیے حکمت عملی کو اجاگر کیا گیا تھا اور اس کے تحت سائنٹفک سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے اجراء سے خصوصی تربیتی پروگرامز اور تعلیم، صنعت اور کسانوں کو جدید تجزیاتی اور تکنیکی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ایڈوائزری بورڈ (سیاب) نے سنٹر کے وژن کو سراہتے ہوئے پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کو مضبوط بنانے اور صنعتی بائیو ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے اس کے اقدامات میں ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں