اسلام آباد پولی کلینک نے جمعرات کے روز سرویکل کینسر کی ویکسین لگوانے کے لیے آگاہی سیمینار منعقد کیا۔سیمینار میں بڑی میڈیکل سٹوڈنٹس، نرسز، زیر تربیت ڈاکٹرز، ماہرین زچہ ع بچہ ، ماہرین اطفال، ہاسپائرل، انتظامیہ، اراکین پارلیمنٹ ، یو این ایف پی اے عملہ ، ہیلتھ سروسز اکیڈمی عملہ، سیکرٹری نیشنل اسمبلی، ڈی جی آبادی نے شرکت کی۔
پولی کلینک سربراہ شعبہ OBG ڈاکٹر نوشین فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرویکل کینسر ایک سنجیدہ اور سنگین صحت کا مسئلہ ہے ۔یہ خواتین میں پایا جانے والا تیسراسب سے عام کینسر ہے۔جبکہ 15 سے 44 سال کی عمر کی خواتین میں دوسرا سب سے عام کینسر ہے۔سرویکل کینسر خواتین کی بچہ دانی کے نچلے حصے کا کیٹر ہے۔ یہ ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، جسے ہیومن پیپیلوما وائرس ایچ پی وی (HPV) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خاموش کینسر ہے ، ابتدا میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہو تیں لیکن وقت کے ساتھ سنگین بیماری جیسا کہ سرویکل کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر سبین افضل (جے ای ڈی) نے پنے خطاب میں کہا کہ اپنی بچیوں کو سرویکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے با قاعدہ اسکرینگ جیسے کہ پیپ سمیر (Pap Smear) کے ذریعے بروقت غیر معمولی تبدیلیوں کو شاخت کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ کینسر میں تبدیل نہ ہوسکیں۔HPV ویکسین اس بیماری سے بچا کا موثر ذریعہ ہے۔یہ ویکسین بچیوں کو ایچ پی ودی (HPV) وائرس سے تحفظ دے کر ان کی جان بچا سکتی ہے۔
سرویکل کینسرخواتین اور بچیوں کو ہوسکتا ہے، اس بیماری سے ایسی خواتین اور بچیاں متاثر ہوتی ہیں، جنہیں اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی گئی ہو ۔ تا ہم ، ایچ پی وی ویکسین اس بیماری سے بچا سکتی ہے اور بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ہر وقت ویکسین لگوائی جائے۔
بچہ دانی سے غیر معمولی خون کا آنا (Genital warts) جنسی اعضاء پر مہاسے اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد اس بیماری کی علامات ہیں۔ اگر کسی خاتون یا بچی میں سرویکل کینسر کی علامات جیسے کہ غیر معمولی طور پر خون بہتایا ورد محسوس ہو تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروانا چاہیے۔ اس صورت میں نہایت ضروری ہے کہ کسی اسپتال جاکر مکمل تشخیص اور علاج کروایا جائے۔
ڈاکٹر صائمہ زبیر نے کہا کہ ایچ پی وی (HPV) ویکسین لگوانا بالکل محفوظ ہے۔ اگر آپ کی بیٹی پہلے ویکسین لگوا چکی ہے تب بھی مہم کے دوران دی گئی اضافی محور اک اس کی قوت مدافعت کو مزید مضبوط کرے گی۔ مکمل طور پر محفوظ ہے اور دنیا بھر کے صحت کے اداروں بشمول عالمی ادارہ صحت (WHO) سے حضور شدہ ہے۔
ایچ پی وی ویکسین حلال ہے اور صحت کے ماہرین کی جانب سے تجویز کردہ ہے۔ یہ ویکسین اسلامی اصولوں کے مطابق تیار کی گئی ہے اور مستند علماء اور صحت کے اداروں سے منظور شدہ ہے۔ یہ ویکسین سعودی عرب اور قدر سمیت 144 ممالک میں بچیوں کو محفوظ طریقے سے لگائی جا چکی ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی ہماری بچیوں اور آنے والی نسلوں کو تحفظ دینے کے لیے اس ویکسین کی منظوری دی ہے۔
ہلکے بخار کی صورت میں آپ کی بچی یہ ویکسین لگوا سکتی ہے۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں اپنے معالج سے رجوع کریں۔

بچیوں کا ویکسین لگوانے سے گھبرانا ایک فطری بات ہے۔ والدین یا سر پرست کی حیثیت سے آپ اپنی بی کو جھائیں کہ یہ ویکسین مستقبل میں ایک سنگین بیماری سے بچانے کیلئے ہے ویکسین کا عمل محفوظ طریقے سے بغیر تکلیف کے مکمل کرے گا۔ اسے یقین دلائیں کہ ویکسین کا عمل فوری طور تکمیل ہو جاتا ہے اور اس کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ڈاکٹر نوید اشرف نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان کے منظور شدہ شیڈول کے مطابق ایچ پی وی ویکسین ایک خوراک مشتمل ہے۔ یہ ویکسین کئی سالوں تک تحفظ فراہم کرتی ہے اور مستقبل میں سرویکل کینسر اور ایچ پی وی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے بچاتی ہے۔
ہم اپنے خاندان ور دوستوں کو بتائیں کہ ایچ پی وی ویکسین ہماری بچیوں کو ایک خطرناک بیماری سے بچانے کے لیے ہے۔ یہ ایک حفاظتی اقدام ہے جو انہیں مستقبل میں صحت مند اور سرویکل کینسر سے محفوظ رکھے گا صحت کے مستند کارکنوں سے معلومات حاصل کر کے اپنے خاندان اور برادری تک پہنچائیں۔ انہیں سوالات پوچھنے کی ترغیب دیں تاکہ انہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
ایچ پی وی (HPV) ویکسین محفوظ ہے تاہم ہر ویکسین کی طرح اس کے بھی کچھ معمولی اور عارضی مضر اثرات ہو سکتے ہیں، جیسے کہ : ٹیکے کی جگہ پر ہلکادرددیا سرخی پیدا ہونا۔کچھ وقت کے لیے تھکاوٹ محسوس ہونا یا چکر آنا۔یہ اثرات وقتی ہوتے ہیں اور جسم کی حفاظتی صلاحیت میں اضافے کا ایک فطری ردعمل ہوتے ہیں۔ ان کا علاج پیراسیٹامول سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ اثرات عام طور پر چند دنوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔