اسلام آباد وفاقی محتسب اعجازاحمد قریشی نے تحفظ ماحولیات کی طرف سے گا ڑیوں کی چیکنگ کے لئے اسلام آباد کے ڈی چو ک میں پچھلے ڈیڑ ھ ماہ سے گاڑیوں کی لمبی قطارکا نوٹس لیتے ہوئے کمشنراسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈائریکٹرجنرل تحفظ ماحولیات کو جمعہ 29 اگست کو طلب کر لیا ہے۔
ترجمان وفاقی محتسب کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی محتسب نے استفسار کیا ہے کہ اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے ریڈ زون کو ہی گاڑیوں کی کلیرنس کے لئے منتخب کیوں کیا گیا؟۔گاڑیوں کی چیکنگ اور اسٹکرز لگانے کے لئے صرف ایک ہی پوائنٹ ہے یا کہیں اور بھی ایسی چیکنگ ہو رہی ہے۔عوام الناس کی آ گاہی کے لئے پرنٹ، الیکٹرانک یا سو شل میڈیا پرکو ئی آگاہی مہم چلائی گئی یا نہیں۔
کیا بزرگ شہریوں اور خواتین کے لئے الگ پوائنٹ بنایا گیا، کس ماڈل اور مینوفیکچرنگ سال تک کی گاڑیوں کے لئے کلیرنس ضروری ہے۔ اور یہ مہم کب تک جاری رہے گی، اس کے بعد کتنی فیس ہو گی وغیر ہ وغیرہ۔
ترجمان وفاقی محتسب کا مزید کہنا ہے کہ محکمہ ماحولیات کی طرف سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں گاڑیوں کی ماحولیاتی کلیرنس کے لئے کئی ہفتوں سے چیکنگ جاری ہے اور روزانہ صبح سے شام تک لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں جس سے عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عوام کی اکثریت کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس لمبی قطار کا مقصد کیا ہے؟
وفاقی محتسب نے متعدد شکایات پر اس صو رتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی محتسب سیکرٹیریٹ کے رجسٹرار محمد ثاقب خان کو انوسٹی گیشن آ فیسر مقرر کیا ہے جنہوں نے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان کو جمعہ 29اگست کو سما عت کے لئے طلب کر لیا ہے۔
سی این این اردو نے چیف کمشنر و ڈپٹی کمشنر کے دفاتر سے موقف کے حصول کے لیے رابطہ کیا مگر کوئی جواب حاصل نہ ہو سکا۔تاہم سی این این اردو کو مذکورہ دفاتر میں اپنے زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی محتسب کے طلب کرنے پر کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مقررہ تاریخ کو پیش نہ ہوں گے۔