خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو روز کے دوران طوفانی بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 307 تک جا پہنچی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا ہے، جہاں مزید 93 افراد کی لاشیں ملنے کے بعد مجموعی ہلاکتیں 184 ہوگئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر بونیر کا کہنا ہے کہ 30 افراد اب بھی لاپتا ہیں جبکہ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔
حکومت نے بونیر، باجوڑ، سوات، شانگلہ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ علاقے قرار دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی تفصیلات کے مطابق بونیر کے علاوہ شانگلہ میں 36، مانسہرہ میں 23، سوات میں 22، باجوڑ میں 21، بٹگرام میں 15، لوئر دیر میں پانچ اور ایبٹ آباد میں ایک بچہ جاں بحق ہوا۔
ادھر گلگت بلتستان میں 12 اور آزاد کشمیر میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق مسلسل بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کے بہہ جانے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، بھاری مشینری اور ایمبولینسز متاثرہ دیہات تک نہیں پہنچ پا رہیں، جس کے باعث ریسکیو اہلکار پیدل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند گھنٹوں میں خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں میں مزید شدید بارشوں کی وارننگ جاری کی ہے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔