تحصیل ٹیکسلا میں سرکاری پریس کلب کا قیام ایک بار پھر اپنے پیچیدہ مراحل طے کر رہا ہے ہمیشہ کی طرح یہ قانونی پیچیدگیوں سے ذیادہ سنگین ذاتی مفادات کے معاملات ہیں بعض تبصروں اور تحریروں سے گمان ہوتا ہے کہ اس سے قبل کبھی کوئی جدوجہد ہوئی ہی نہیں،جمہوریت کی جگہ آمریت نے پنجے گاڑے رکھے ،الزامات کی بوچھاڑ،تعریفوں کے پل ،حاشیہ برداری اور موجودہ عبوری سیٹ اپ کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش پیہم جاری و ساری ۔۔۔مشترکہ اعلامیے میں تمام پریس کلب تحلیل ہو چکے ،ایک مشترکہ کابینہ منظور ہو چکی ،سرکاری پریس کلب کا حصول اور شفاف انتخابات کا چھے ماہ بعد وعدہ ہو چکا لیکن پھر بھی جوڑ توڑ۔۔۔۔یقینا عبوری کابینہ پر دباؤ بڑھانے کے سوا کچھ نہیں، سب سے بڑھ کر جمہوری تاریخ سے یکسر چشم پوشی اور سالہا سال منتخب صدر پر غیر جمہوری رویے کی الزام تراشی ،حالانکہ پریس کلب کے سلسلے میں جو کاوشیں ہوئیں ان کا اعتراف نہ کرنا سب سے بڑھ کر غیرجمہوری رویہ ہے
تحصیل کے سینئر صحافیوں میں سے ایک قاری ولی الرحمن کے زمانے میں سابقہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے پریس کلب کے لیے تحصیل کورٹ کمپلیکس میں ایک جگہ فراہم کی ، ان کے بعد سید مشتاق حسین نقوی نے اپنی مدد آپ کے تحت پریس کلب کا دفتر بنوایا جسے مکمل آراستہ کیا گیا جب تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کی گئی تو انتظامیہ نے وہ عمارت اپنی تحویل میں لے لی جس پر مشتاق نقوی نے اپنے دوستوں کے ہمراہ اس وقت کے سیشن جج، صدر تحصیل بار سے بھی گفتگو کی شومئی قسمت محکمہ مال کے ریکارڈ میں اس جگہ کی ملکیت تحصیل پریس کلب کے نام نہ ہونے کے باعث اس کا متبادل نہ مل سکتا تھا لہذا پریس کلب سے ہاتھ دھونا پڑ گیا
چوہدری نثار علی خان کے دور میں بھی پریس کلب کے سلسلے میں حوصلہ افزا کام ہوا لیکن چند صحافیوں کے ذاتی مفادات نے اس سلسلے کو تکمیل سے قبل ہی منقطع کرا دیا
پریس کلب کے حصول کی جہد مسلسل پھر بھی جاری رہی 2022 میں جی ٹی روڈ پر ٹیلی فون ایکسچینج کے ساتھ ایک زیر تعمیر کمرہ جو منشیات فروشوں کی آماج گاہ تھا اس کو ختم کر کے اپنی مدد آپ کے تحت پریس کلب کی عمارت میں ڈھالا گیا اور عوام الناس کو ایک پرامن پیغام دیا گیا اس وقت کے نائب صدر واہ کنٹونمنٹ بورڈ ملک عارف محمود (برادر موجودہ نائب صدر ملک ارشد محمود )نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور وعدہ کیا کہ اس کی مکمل تعمیر اور مزید تزئین وآرائش میں ذاتی و سرکاری دونوں طرح سے ہر ممکن معاونت کی جائے گی اس وقت صحافیوں کے ایک نام۔نہاد گروپ نے ہمیشہ کی طرح صحافی کمیونٹی کے اس احسن اقدام کو سبوتاژ کرنے کا دانستہ منصوبہ بنایا ایک ہنگامی میٹنگ کال کی ویڈیو بیانات جاری کیے کنٹونمنٹ بورڈ واہ کینٹ،ٹیکسلا اورتحصیل ایڈمنسٹریشن ٹیکسلا کو درخواستیں دے کر شدید دباؤ میں لایا گیا کہ یہ ایک قبضہ گروپ ہے جس نے سرکاری جگہ پر قبضہ کر لیا ہے یوں ایک پرامن صحافی برادری کو سرکار کی نظر میں قبضہ مافیا بنا دیا اور شرائط رکھیں کہ اگر ایک گروپ کو سرکاری پریس کلب دیا جاتا ہے تو دوسرے کو بھی دیں ان کی کارستانی اور درباری سازش کی وجہ سے ایک بار پھر صحافی برادری پریس کلب سے محروم ہو گئی
پریس کلب میں غیر جمہوری رویے کے شور و غوغے میں اصل حقائق کو مسخ کیا جاتا رہا جب کہ 2000 میں انتخابات کے بعد گاہے گاہے انتخابی عمل جاری رہا تقریبا 22 برس تک منتخب صدر کے مدمقابل کوئی امیدوار نہیں آیا انتخابات کا طریقہ کار انتہائی قابل اعتماد رہا جس کے مطابق ایک چیف الیکشن کمشن مقرر کیا جاتا تھا جس میں وکلا ،تاجر صحافی ،علما پر مشتمل ایک الیکشن بورڈ اپنی ذمہ داری بطریق احسن انجام دیا کرتا تھا
2022 کے پریس کلب واہ ٹیکسلا کے مشترکہ انتخابات میں رکنیت سازی کے بعد صدر اور جنرل سیکرٹری کے عہدوں پر مدمقابل ممبران پر مشتمل بھرپور انتخابی مہم جاری رہی اور آن کیمرہ شفاف انتخابات منعقد کیے گئے
اگرچہ سیاسی اور سماجی حریف مشتاق نقوی گروپ کے شدید مخالف تھے اور ان کی شکست دیکھنے کو بےتاب بھی لیکن اللہ کے فضل وکرم سے ایک بار پھر مشتاق نقوی گروپ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا یوں سید مشتاق حسین نقوی صدر اور سید ندیم حسن زیدی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ایگزیکٹو باڈی اور دیگر عہدےداران پر مشتمل ایک قابل اعتماد کابینہ اپنے فرائض انجام دینے میں مصروف عمل ہو گئ
اس الیکشن میں راقمہ نے مشتاق حسین نقوی کے مخالف گروپ کو ووٹ دیا نقوی صاحب کامیاب ہوئے کچھ گفتگو رہی حقائق معلوم ہوئے اور میں نے انھیں کسی مخاصمت کے بغیر صدر پریس کلب مان لیا اگرچہ اس کا سخت ردعمل بھی دیکھنے کو ملا لیکن جمہوری رویے جہد مسلسل اور سرکاری پریس کلب کے حصول کی خواہش نے مجھے ان سے منسلک رکھا
نومبر 2023 میں غیر ملکیوں کے خلاف ایک خبر شیئر کرنے پر بھیانک نتائج کی دھمکیاں موصول ہوئیں تو میں نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا صدر صاحب نے مذمتی پریس ریلیز جاری کی دیگر صحافی بھی ہم نوا ہوئے احتجاج و معاونت کا حصہ بنے اسی دوران سرکاری پریس کلب کے لیے وزارت اطلاعات پنجاب میں پریس کلبوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک تحریری درخواست حکومت پنجاب کو پیش کی گئی اس میں گرانٹ جاری کرنے کی استدعا کی گئی منتخب پریس کلب کی ترجمانی میرے حصے میں آئی درخواست تحریر کرنے اور گرانٹ تک کے مراحل طے کرنے میں میری جانب سےمکمل محنت کی گئی لیکن ایک سوشل میڈیا ویڈیو سے معلوم ہوا کہ حکومت نے 5 لاکھ کا چیک پریس کلب کو جاری کیا ہے جس میں ہمارا نام ونشان تک مٹا دیاگیا چیک ابھی تک بہ وجوہ کیش نہ ہو سکا
جنوری 2024 میں جب کابینہ اپنی دو سالہ مدت مکمل کر چکی تو نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا لیکن کوئی مدمقابل منظر عام پر نہ آیا یعنی جمہوری عمل جاری لیکن جمہور دکھائی نہ دئیے انتخابات کے بعد بھی رکنیت سازی کے لیے کاغذات جمع کرانے کا وقت دیا گیا لیکن ہر طرف سناٹا رہا
جمہوری عمل کا طریقہ کار مشکل دکھائی دیا تو چشم پوشی کرتے ہوئے علیحدہ صحافتی گروپ تشکیل دے دئیے گئے
کئی سماجی و صحافتی تنظیموں نے سید مشتاق حسین نقوی کی پچاس سالہ صحافتی خدمات اور پریس کلب کی جمہوری روایت کی جہد مسلسل پر لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈز سے نوازا
ان میں سیاسی سماجی ، فلاحی ومذہبی تنظیمیں شامل تھیں واہ کینٹ میں 52 سالوں سے سرگرم عمل تنظیم پاکستان یوتھ لیگ والنٹیئر فورم ،علامہ اقبال لٹریری سوسائٹی ،راولپنڈی اسلام آباد کی نمایاں صحافتی تنظیم پوٹھوہار یونین آف جرنلسٹس نے انھی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انھیں،لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ،حسن کارکردگی ایوارڈ اور بابائے صحافت اعزاز سے نوازا وہ پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل ٹیکسلا کی جانب سے لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ بنام محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے اہم اعزازات وصول کرنے والے علاقے کے واحد صحافی ہیں
قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن 2024 اور تحصیل بار ٹیکسلا کے انتخابات 2025میں راقمہ کی جانب سے الیکشن کمپین میں ہر امیدوار سے سرکاری کلب کا سوال کیا گیا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو صحافتی کمیونٹی کے مسائل کے حل اور سرکاری پریس کلب کے لیے کیا اقدامات کریں گے ہر ایک کا جواب حوصلہ افزا رہا محسن ایوب صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی لیکن انھوں سے بہترین اقدام کیا کسی سیاسی لیڈر نے بطور اپوزیشن اس اقدام کی مخالفت نہ کی
گذشتہ برس ٹیکسلا سے منتخب صوبائی ممبر اسمبلی پنجاب محسن ایوب خان نے صحافیوں کی دیرینہ خواہش پر سرکاری پریس کلب کا اعلان کیا جسے منظم ضابطہ اخلاق کے تحت اب عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے عبوری کابینہ تشکیل دی جا چکی ہے صدر حسن علی طاہر اور جنرل سیکرٹری سید وسیم شاہ ہیں مشاورتی کمیٹی اور عبوری عہدےداران کا انتخاب کیا جا چکا ہے چھے ماہ میں غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کا وعدہ بھی ہو چکا ہے لیکن صحافت کی دنیا کے درخشندہ ستارے کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے
سید مشتاق حسین نقوی تحصیل ٹیکسلا میں صحافت کے ان بانی رہنماؤں میں شامل ہیں جنھوں نے “نوائے واہ ” اخبار کو ماہرین تعلیم صابر منہاس اور سید ارشاد نبی کی معاونت سے ملک بھر میں متعارف کرایا اگرچہ کچھ لوگ اسی مناسبت سے اپنے نیوز نیٹ ورک کے چربے متعارف کرانے میں مصروف ہیں لیکن صحافتی گھن گرج کی داغ بیل تحصیل ٹیکسلا میں چند صحافیوں نے ہی ڈالی ان میں سید مشتاق حسین نقوی سرفہرست ہیں وہ طبعا خوش مزاج لیکن فطرتا اپنے دبنگ اور مدلل انداز کے لیے معروف ہیں حال ہی میں ان کی ہارٹ سرجری ہوئی جس دن یہ خبر سوشل میڈیا پر نشر ہوئی اسی ہفتے پریس کلب کے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیاگیا اور اگلے ہی ہفتے حلف برداری کی تقریب منعقد کر دی گئی حالانکہ ترجمان کی حیثیت سے راقمہ نے عبوری کابینہ سے درخواست کی تھی کہ حلف برداری کی تقریب چند روز ان کی صحت یابی تک موخر کر دی جائے درپردہ وہ عبوری صدر و جنرل سیکرٹری سے رابطے میں تھے لیکن یہ ہم جونیئرز کا اخلاقی فرض تھا کہ ان کی صحت یابی تک توقف کرتے یا ان کی مخالفت پر تنبیہ کی جاتی
اگرچہ حلف برداری انجام پا گئی لیکن اس مرد مجاہد کے خلاف مخالفت کا وہ بازار گرم ہے کہ شہر شہتیروں سے گونج پڑا وہ ناسازی ءطبع کے باعث مسلسل خاموش ہیں طنز و تشیع ہو ،لعنت ملامت یا ان کی خدمات سے چشم پوشی اکثریت غیر جمہوری صحافت کا ملبہ انھی پر ڈالے ہوئے ہے ایک مرد مجاہد کی پچاس سالہ صحافتی خدمات کو غیر معیاری تبصروں سے عبارت کیا جا رہا ہے اور عین اس وقت جب وہ عارضہ ء قلب کی نازک ترین صورتحال میں ہیں
یاد رکھیے جو لوگ اپنے مشاہیر اور مصالح کو فراموش کر دیتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے آج کسی کے لیے زمین تنگ کریں تو کل خود کو اسی مرحلے کے لیے تیار بھی رکھیں
“تم پر بھی کیفیت یہی گزرے تو میں کہوں “