روانڈا نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ امریکہ سے ڈی پورٹ کیے گئے 250 تک مہاجرین کو قبول کرے گا۔ یوں روانڈا جنوبی سوڈان اور ای سواتینی کے بعد تیسرا افریقی ملک بن گیا ہے جو ایسے غیر ملکیوں کو اپنے ملک میں پناہ دے گا، جنہیں امریکہ میں رہنے کے لیے نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔
سی این این کے مطابق، یہ مہاجرین وہ افراد ہیں جو امریکہ کے شہری نہیں تھے اور انہیں دیگر ممالک سے امریکہ میں داخل ہونے کے بعد ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام ان مہاجرین کو سنگین جرائم میں ملوث قرار دے چکے ہیں، اور انہیں واپس لینے سے ان کے آبائی ممالک نے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد امریکہ نے دیگر ممالک کے ساتھ ان کی آبادکاری کے معاہدے کرنا شروع کیے۔
روانڈا کی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ہر فرد کے قیام کی منظوری انفرادی طور پر دے گی، اور منظوری کے بعد ان مہاجرین کو روزگار کی تربیت، طبی سہولیات، اور رہائش فراہم کی جائے گی تاکہ وہ روانڈا میں نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔
روانڈا، جو 1.5 کروڑ سے بھی کم آبادی کا مشرقی افریقی ملک ہے، اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے ساتھ مل کر لیبیا سے نکالے گئے ہزاروں پناہ گزینوں کو عارضی پناہ دے چکا ہے۔ 2019 سے 2025 کے درمیان تقریباً 3000 پناہ گزین روانڈا پہنچے تھے۔
2022 میں روانڈا نے برطانیہ کے ساتھ بھی ایک متنازع معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والے پناہ گزینوں کو روانڈا بھیجا جانا تھا۔ تاہم قانونی چیلنجز اور نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔ روانڈا نے اُس وقت کہا تھا کہ وہ برطانیہ سے وصول شدہ 300 ملین ڈالر سے زائد کی رقم واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
روانڈا نے امریکہ سے مہاجرین کے قیام کے بدلے کسی مالی یا معاشی فائدے کی تفصیل نہیں بتائی، نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا ان مہاجرین کو وہی رہائشی سہولیات دی جائیں گی جو برطانوی معاہدے کے تحت مختص کی گئی تھیں۔
مئی 2025 میں روانڈا نے تصدیق کی تھی کہ وہ امریکہ سے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو قبول کرنے کے ابتدائی مراحل میں ہے، اور مذاکرات جاری ہیں۔
ادھر افریقی ممالک میں ان معاہدوں پر تنقید بھی سامنے آئی ہے، جہاں کئی حلقے ان اقدامات کو افریقی براعظم کو “غیر مطلوب افراد کا ڈمپنگ گراؤنڈ” بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے افریقی ممالک پر دباؤ ڈالنے کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں، خاص طور پر نائجیریا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کے حوالے سے۔
ان معاہدوں پر انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے اگرچہ روانڈا کی جانب سے مہاجرین کی میزبانی کو سراہا، لیکن یہ بھی خبردار کیا کہ ایسے اقدامات پناہ گزینوں کو خطرناک حالات میں واپس بھیجنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
روانڈا نے اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی بھی پناہ کے متلاشی کو زبردستی اس ملک واپس نہیں بھیجتا جہاں اسے ظلم و ستم کا سامنا ہو سکتا ہو۔