واشنگٹن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خالصتان تحریک کی حامی تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو خط لکھ کر امریکی شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جو بھارت کے لیے سفارتی طور پر ایک اور چیلنج بن گیا ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے یہ خط سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کیا، جس میں ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
“میں اپنے شہریوں، اپنی قوم اور اپنے اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھتا ہوں۔ جب امریکا محفوظ ہوگا، تبھی دنیا بھی محفوظ ہوسکے گی۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ امریکی شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے لیے اپنی جدوجہد کبھی ترک نہیں کریں گے۔
یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 17 اگست کو واشنگٹن میں خالصتان تحریک کے تحت ریفرنڈم کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے بھارت اور امریکہ کے درمیان سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس بیان سے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک اور بڑا سفارتی جھٹکا لگا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خالصتان تحریک کی سرگرمیاں عالمی منظرنامے پر ایک بار پھر توجہ حاصل کر رہی ہیں۔