تحریر :عفت رؤف
یہ کائنات تغیر و تبدل ،عروج و زوال کی دل گداز داستان ہے لیکن تحقیق کی گھٹا ٹوپ وادیوں میں سرکردہ جانثاروں کی رقم کردہ تاریخ کو کبھی زوال نہ آیا اصول تحقیق میں تسخیر سے شعور کا حصول سب سے مقدم رہا اور محقق اپنی سرشت میں موجود سیر وسیاحت ،فصاحت و بلاغت اور جستجوئے ثقافت و معاشرت کی بنا پر ہی امر ہوا محقق سے مورخ بننے تک کا سفر اسے قریہ قریہ ہجرت ،تلاش رموز آگاہی اور نثر پاروں کو عرق ریزی سے سینچنے میں مدد فراہم کرتا رہا تاریخ آشکارا ہے کہ کبھی وہ وقت تھا کہ وسط ایشیائی سلاطین، مورخین اور سیاحوں نے پاک و ہند کا رخ کیا اسے دل و جان سے اپنی صلاحیتیں منوا کر دنیا میں عظیم تہذیب بنایا اور اب برصغیر کے باشندے وسط ایشیا کو کھوجنے میں متجسس نظر آتے ہیں
ڈاکٹر رؤف امیر علم و ادب سے وابستہ ایک ایسے ہی محقق ثابت ہوئے انھیں پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لیے وفاقی وزارت تعلیم پاکستان نے بذریعہ وزارت خارجہ 2006 میں وسط ایشیائی ملک قزاقستان میں تعینات کیا ابلائی خان یونیورسٹی آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ورلڈ لینگویجز کے اکتیس شعبہ ہائے زبان و ادب میں ایک شعبہ ء اردو بھی شامل تھا جس کا کمرہء جماعت تو دور ،نام کی تختی تک نہ تھی شومئی قسمت وزارت تعلیم کی جانب سے کوئی معاشی کمک بھی میسر نہ تھی سفارت کاری پر تعینات سکالر پاکستان چیئر کو سرکاری پاسپورٹ کی سہولت سے بھی محروم رکھا گیا ان تمام محرومیوں اور سہولیات کی عدم فراہمی کے باوجود ڈاکٹر رؤف امیر اپنی فطری وفاداری کے بل بوتے پر پاکستان ثقافتی مرکز اور اردو زبان کے کمرہء جماعت کے حصول میں کامران ٹھہرے اپنے عہدے سے مکمل انصاف کرتے ہوئے اپنے خون پسینے کا ایک ایک قطرہ ارض وطن کی ناموس میں صرف کیا روایتی خانہ پری اور بیرون ملک قیام کے تعیش کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تین کتب تحریر کیں ان سے قبل بھی ایک سکالر اس ملک میں تعینات رہے لیکن پردیس کی صعوبت برداشت کرنے سے قاصر رہے کہ کوئی کارنامہ سرانجام دیتے یا ڈاکٹر رؤف امیر کی مانند پتھر سے پانی نکالنے کا حوصلہ ہی نہ رکھتے تھے لہٰذا ادھورے منصوبے راہ میں حائل رکھے اور وطن واپسی ہی میں عافیت جانی
ڈاکٹر رؤف طبعا غیر متزلزل عزم رکھتے تھے لہٰذا ناکامی کو خاطر ہی میں نہ لائے اور کاغذات میں درج پاکستان چیئر کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس دشوار گزار راہ پر چل دئیے بالآخر کامیاب ہوئے تین برس کی کوشش پیہم کے بعد اردو زبان اور ثقافتی مرکز کا افتتاح اپنے زور بازو اور احباب کی معاونت سے کیا بیچلرز پروگرام کے گیارہ طلبہ نے اردو کو بطور ثانوی زبان منتخب کیا اور دوسرے برس بارہ طلبہ نے اس زبان میں داخلہ لیا اردو زبان کا انتخاب مضبوط دلیل کا متقاضی تھا نوآمد ہر طالب علم یا طالبہ کا مشترکہ سوال” اردو کیوں پڑھیں “کالم کے طور پر مصنف کی پہلی کتاب “شاہراہ ریشم کی جان قزاقستان “کا حصہ ہے وسط ایشیا میں دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے غیر ملکی زبانیں سیکھی جاتی ہیں یہی مفاد مدنظر رکھ کر اردو زبان کو سیکھا گیا لیکن تعیناتی کے پانچویں سال سکالر کی ناگہانی وفات کے بعد طلبہ کو درپیش مسائل کا حکومت پاکستان نےکوئی جواب نہ دیا راقمہ نے ایک برس طلبہ کو رضاکارانہ اردو زبان کی تعلیم دی لیکن سرکاری پیچیدگی اور عدم دلچسپی آڑے آئی بارہا سرکاری سطح پر پاکستان کی سرکاری مشینری کو تحریک دی گئی لیکن جب کوئی پیش رفت نہ ہو سکی تو طلبہ کو فارسی زبان کی ڈگری ملی یوں ایک مخلص معلم اور وفادار محقق کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا گیا دیگر وسط ایشیائی ممالک میں بھی شعبہ ہائے اردو کو بےیارو مددگار چھوڑ دیا گیا تو ہندی زبان کے شعبوں کے سربراہان کو شب خون مارنے کا موقع مل گیا انھوں نے اردو کو اپنی ذیلی زبان سمجھ کر ہندی رسم الخط کے ذریعے طلبہ کو تعلیم دینا شروع کر دی اور یوں ایک بار پھر ہماری شناخت نادارد
وسط ایشیا میں اردو متنوع لسانی رحجانات کا مجموعہ ہے اس میں مختلف ممالک میں اردو کے مقام ،اردو شناس ادبا کا تعارف ، اقبال شناسی کے موضوعات اور نصاب اردو کا بھی تذکرہ ہے اگر قدرت مہلت دیتی تو سکالر اردو روسی نصاب کی ایک ضخیم کتاب بھی مرتب کر لیتے اس کے بیش تر تحقیقی مضامین ادارہء فروغ قومی زبان کے اخبار اردو میں شائع ہو چکے ہیں ان مضامین کی تحقیق بھی جان جوکھوں کا کام تھا حوالہ جاتی کتب خال خال ہی انگریزی زبان میں میسر تھیں انھیں قزاقی،ازبکی ،تاجکی زبانوں سے آسان فہم بنانے کے کیے مترجمین کی ضرورت پڑی جو بھاری رقوم کے عوض یہ فریضہ انجام دیا کرتے تھے “شاہراہ ریشم کی جان قزاقستان ” میں شامل فصل اردو کے تمام مضامین باردگر اس کتاب کا حصہ بنائے گئے ہیں ان تحقیقی مضامین میں سوویت یونین کے زمانے میں اردو کی مقبولیت تراجم ،شعبہ جات کی تشکیل،اردو کش سفارتی سرگرمیاں،قدیم کتب خانوں میں اردو رسم الخط سے مشابہت رکھتا علاقائی زبانوں کا معدوم رسم الخط قدیم قرآنی مخطوطات کا ذکر ملتا ہے ان علاقوں کی تجارتی سرگرمیوں میں غیر ملکی زبانوں کو خاص اہمیت حاصل ہے پاکستانی طلبہ طب اور تجارت کی تعلیم کے لیے ان ممالک کا رخ کرتے ہیں اس طرح مقامی آبادی سے رابطے میں اردو زبان کو بھی فروغ ملتا ہے
ڈاکٹر رؤف امیر کو اپنی تعیناتی کے دوران سفارتی سطح پر کام ذیادہ ہونے کے باعث ادھورا رہ جانے کا خدشہ لاحق ہوا تو انھوں نے مجھے بھی اس کار خیر کا حصہ بنا دیا میرے ذمے نصاب اردو کی ترتیب،تراجم اور کامیاب خواتین سے متعلق تحاریر تھیں یوں ایک جانب ڈاکٹر رؤف امیر کے کالم روزنامہ نوائے وقت کے صفحہ اوورسیز میں بذریعہ انچارج خالد بہزاد ہاشمی اور میرے کالم سنڈے میگزین میں بذریعہ شریف کیانی تسلسل سے طباعت آشنا ہوتے رہے کتاب کی تکمیلیت میں وسط ایشیا کے ماہرین اردو کے لیے طعام کی دعوتیں بھی ایک روایت رہی ان حضرات میں لاہور منصورہ سے فارغ التحصیل شہری محمد زین ازبکستان، ماہر لسانیات علی عارف قزاقستان،علی پاکستانی یوکرین شامل تھے فارسی زبان کے ادیب و شاعر ڈاکٹر سفر عبداللہ تاجک معلم فارسی زبان و ادب ،آغا افشین ایران کے ساتھ سیر حاصل گفتگو اور مباحث رواں رہا کرتے
پاکستان کی جانب سے حکومتی سطح پر زبان و ادب کی ہم آہنگی کے مراحل سستی کا شکار ہیں لیکن عوامی سطح پر یہ مشترکہ تعاون کا سلسلہ جاری و ساری ہے پاکستانی طلبہ اور تاجروں کے حسن سلوک سے متاثر کئی افراد پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور یہاں زیر تعلیم رہے ہماری حکومت سے وسط ایشیائی باشندوں کو عدم تسلسل کی پالیسیوں کا شکوہ ہے جس کی ایک مثال شعبہ ہائے اردو الماتی قزاقستان ہے جہاں 2010 میں سکالر کی وفات کے بعد سے اب تک کسی سکالر یا استاد کو تعینات نہ کیا جا سکا یہی سست روی ہمارے ازلی دشمن کے بین الاقوامی پاکستان کش پراپیگنڈے کو عملی جامہ۔پہنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے ایک وفادار سکالر اپنی شریک حیات کے ہمراہ تن تنہا بغیر سرکاری سہولیات کے سفارتی تعلقات مستحکم کرسکتا ہے تو سفارت خانوں میں تعینات عہدےداران اور بیرون ملک تعیناتی سے لطف اندوز ہونے والے۔عہدےداران جتنی سہولیات بھی میسر آ جائیں تو تہلکہ برپا ہو سکتا ہے اسی بات کا شکوہ پاکستان میں تعینات سفیر قزاقستان قستافن ژرلان نے اپنی ایک غیر رسمی گفتگو میں ہم سے کیا کہ وہ جو قدم اٹھاتے ہیں ان کی حکومت فوری تعاون کرتی ہے جب کہ حکومت پاکستان کے مراحل پیچیدہ اور تاخیر کا شکار ہونے کے باعث بداعتمادی کی فضا قائم ہے وسط ایشیائی ممالک میں اردو کو فروغ دینے کے لیے اپنے متعلقہ اداروں،ادیبوں اور صحافیوں کے تبادلے پر غور کرنا ازحد ضروری ہے جو لوگ ان ممالک سے متعلق مسلسل کام۔کرتے رہتے ہیں انھیں نظر انداز کر کے سرکاری وفود میں من پسند سفارشی افراد کو غیر ممالک میں سیر سپاٹے کی غرض سے لے جایا جاتا ہے نتیجتا ایک غیر متعلقہ وفد باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے
وسط ایشیا میں اردو کی اشاعت میں ادارہء فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے پہلا قدم اٹھایا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید کی بےلوث معاونت میرا حوصلہ بڑھانے میں پیش پیش رہی اور مدیر اخبار اردو سید تجمل شاہ کی خصوصی شفقت روز اول سے ہنوز میرے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے ان سب برادران کا بےحد شکریہ
“حرف محبت” رؤف امیر کی کتابوں میں میری جانب سے بطور تحریر خاص شامل ہے تصنیف “وسط ایشیا میں اردو “کے حرف محبت “میں غیر ضروری تاخیر کے لیے قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ اس کتاب کی ایک ایک سطر مجھے کئی کئی بار ماضی میں لے گئی پردیس کی صعوبت،کچھ کر دکھانے کا چیلنج ،امر ہو جانے کا جذبہ اور کچھ ادھورے خواب! خود کو سمیٹنے میں خاصا وقت درکار تھا
مخلص شخص کی قربت نعمت خداوندی ہے لیکن ہجر و فراق کا عذاب جھیلنا بھی آزار ہے مجھے فخر ہے کہ حکومت قزاقستان نے ڈاکٹر رؤف امیر کی محنت و مشقت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی پہلی کتاب “شاہراہ ریشم کی جان قزاقستان “اعلی سول ادبی “آسق ایوارڈ” سے نوازا لیکن اپنے وطن کے صاحبان اختیار سے شکوہ بھی ہے کہ انعام و اکرام تو دور کی بات کبھی کسی نے عارضہ ء قلب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ناموس وطن کی خاطر جان پر کھیل کر تاریخ رقم کرنے والے خاموش مجاہد ڈاکٹر رؤف امیر کی کمسن بیٹیوں کی جانب نگاہ کرم تک نہ کی
پندرہ برس میں وہ خاردار بچپن سے جوانی کی دہلیز پر آن پہنچی ہیں اور والد گرامی کا خوبصورت ادبی ورثہ سنبھالنے لائق ہو چکی ہیں اب یہ امانت انھی کے حوالے!