literary tribute to the cultural and linguistic journey of Urdu in Central Asia, highlighting Dr. Rauf Amir’s contributions in Kazakhstan.

ڈی پی اوز کے استاد

تحریر:عفت رؤف
پاکستان میں محکمہء پولیس کے سابق ایس ایچ او طاہر بلال آج کل امریکہ میں مقیم ہیں ان سے حال ہی میں ملاقات ہوئی تو دو معاشروں میں جرم و قانون کا موضوع زیر بحث رہا طاہر بلال نے 1997 سے 2016 تک پاکستان کے محکمہء پولیس میں بطور ایس ایچ او سے بطور اسسٹنٹ لیگل ایڈوائزر امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہ گریجویشن کے بعد جب محکمہ پولیس میں شامل ہوئے تو ایل ایل بی سال اول کے طالب علم تھے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران ہی قانون کی ڈگری حاصل کی کچھ عرصہ بعد علم وجستجو سے لبریز اور تحقیق و جستجو کے دلداہ طاہر بلال حصول علم کا سفر جاری رکھنے کا عزم لیے سکالر شپ پر برطانیہ میں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کرنے روانہ ہوگئے پاکستان واپسی پر اپنی ماہرانہ بصیرت اور محققانہ فطرت کی بنا پر نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں تعینات ہوئے ڈی ایس پی طاہر بلال نے قابل ترین اے ایس پیزکے ایک گروپ کے لیے قانون کی درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دئیے ان میں سے کئی آج بطور ڈی پی اوز مختلف مقامات پر تعینات ہیں ڈی پی او اٹک عاطف رضا بھی ان کے شاگردوں میں شامل ہیں دریں اثنا امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں اسسٹنٹ لیگل ایڈوائزرز کی آسامیوں پر قسمت آزمائی اور ہزاروں امیدواروں میں سے اس پوسٹ پر کوالیفائی کر لیا
سالہا سال سفارت خانے کی ترجمانی کرتے ہوئے ان گنت ممالک کے دورے کیے اس سارے عرصے میں طاہر بلال ایڈووکیٹ نے دنیا بھرکے ججز،وفاقی ماہرین قانون اور مختلف ممالک کے آئین وقانون سے واقفیت حاصل کی یوں وہ بین الاقوامی سطح پر ماہر قانون کی حیثیت سے متعارف ہوئے امریکی حکومت نے ذہین و فطین اس شخص کی اہمیت بھانپتے ہوئے ٹیکساس امریکہ میں ایک اہم عہدے پر تعینات کیا جہاں انھوں نے جرمیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی آج کل ڈاکٹر طاہر بلال بطور لیگل ایڈوائزر امریکہ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اپنے اہل خانہ کےساتھ ایک خوشگوار زندگی نہایت منظم انداز سے بسر کر رہے ہیں ڈاکٹر صاحب مختصر دورے پر پاکستان تشریف لائے تو ایک نجی محفل میں شرف ملاقات حاصل ہوا
پاکستان میں سن نوے کی دہائی اور سن دو ہزار کے بعد تھانہ کلچر کا قدیمی انداز آج بھی رائج ہے ان کے نزدیک برصغیر کے مسلمانوں کو سامراج راج کے زیر تسلط ۔مسلمانوں کو سخت قوانین کا سامنا تھا آزادی کے بعد ان قوانین میں ترامیم اور بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی سخت ضرورت تھی جسے مسلسل نظر انداز کیا گیا اشرافیہ نے اس قانون سے خوب فوائد حاصل کیے لیکن عوام کا شدید استحصال کیا گیا صورت حال پہلے سے حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کے فوجداری قوانین میں ترامیم اور نئی فورسز کا قیام بھی خوش آئند ہے
ایف آئی آر کے ڈیجیٹل سسٹم،بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم پر فی الفور کارروائی سے امید نو پیدا ہوئی ہے طاہر بلال کے نزدیک دنیا بھر میں کرائم سین کی بھرمار ہے لیکن فرق ان سے نبرد آزما ہونے کا ہے

قبل ازیں جرائم پر کاغذی کارروائی یا اخبارات میں خبروں کی اشاعت دیکھنے کو ملتی تھی لیکن سوشل میڈیا پر معمولی نوعیت کے معاملات کی بھی تشہیر ہو جاتی ہے لہٰذا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اب بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جرم کرنے والے دماغ کا تعلق کسی مخصوص معاشرے سے نہیں ہوتا دنیا بھر میں ہر نوعیت کے جرائم جاری ہیں کوئی ملک ان سے کیسے نبرد آزما ہو اس کے قوانین پر منحصر ہے مثال کے طور پر امریکی ریاستوں میں قیدیوں کی تعداد سب سے ذیادہ ہے لیکن ان کے مختلف گروپس بنائے جاتے ہیں کچھ کی اخلاقی تصحیح،بعض کو موقف بیان کرنے کا حق اور چند ایک کو جرمانوں تک محدود رکھنے کی روایت ہے تاکہ سخت سزا کا رویہ اختیار کر کے ملزم کی شخصیت مکمل تباہ نہ کی جائے ہر امریکی ریاست کا فوجداری قانون دوسری سے مختلف ہے بین الریاستی معاملات فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے حوالے کیے جاتے ہیں قتل سنگین جرم جب کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سنگین ترین جرم گردانا جاتا ہے سزائے موت مجرم کو بذریعہ زہریلا انجیکشن دی جاتی ہے
ایف آئی آر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے مطلع کیا کہ امریکی ریاستوں میں پولیس ایمرجنسی سروس پر کال کی جاتی ہے اس کے بعد تفتیشی افسران کی ایک ماہر ٹیم مکمل تفتیش کے شواہد،گواہ،حالات و واقعات پر مبنی چالان عدالت کے روبرو پیش کرتی ہے تفتیشی ماہرین کو ہر نوع کی سہولیات اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں ایسی صورت میں جھوٹی شکایات کی گنجائش ہی نہیں رہتی کیوں کہ جھوٹی شکایت اور ناقص تفتیش کی سزا انتہائی سخت ہے روڈ حادثات میں اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ کر اپنی تفتیش کے مطابق شواہد حاصل کر لیتی ہے جو اسے عدالت جمع کرانے ہوتے ہیں مطلب نہ تھانے کی خواری، نہ عدالت کے چکر، نہ منشی کی منت ،نہ وکیل کے ترلے، سچا وقوعہ، پکی شکایت، مکمل تفتیش اور جرم کے مطابق ازالہ یا سزا !
قانونی معاونت و مشاورت کے لیے وکیل صرف مدعی کی بیان کردہ بات پر ہی مقدمہ دائر کرنے کا مجاز ہے دائیں بائیں کے قصے ، مبالغہ آرائی ،مخالف پھانسنے کے داو پیچ آزمانے پر قانونی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پائے گا کوئی وکیل منشیات اور قتل جیسے مقدمات سے بری ہونے والے ملزمان کی جلی حروف میں باعزت بری ہونے والی خبریں مشتہر کرنے کا مجاز نہیں ہوتا خبر اسی صورت میں شائع ہوتی ہے جب معاشرے کے اندمال وانحطاط کا خدشہ یا عظیم کار خیر کے جذبے کا پرچار درکار ہو وہ بھی اس بنا پر کہ عدالت کی پریس ریلیز ہو
پاکستان میں منشیات کے مقدمات میں پولیس مدعی ہوتی ہے یوں اب تک اس قانون کی کھلی خلاف ورزی کی جا چکی ہے منشیات مقدمات کے اصل حقائق پر اب تک کوئی ایمرجنسی ہیلپ لائن نہیں بنائی جا سکی اور جھوٹے مقدمات کی دھونس بآسانی ڈالی جا سکتی ہے
ڈاکٹر طاہر بلال نے بتایا کہ امریکی ریاستوں میں جرم و سزا ،حقوق وفرائض سے متعلق آگاہی کا آغاز اول جماعت سے ہی کر دیا جاتا ہے شہریوں کو قانون کی پاسداری کرنے کی تلقین،تعلیمی نصاب کا بنیادی جزو ہے اسی طرح ٹیکس چوری ناپید ہے زمینوں پر قبضہ مافیا دکھائی نہیں دیتے خواتین پیشہ ورانہ زندگی میں پراعتماد اپنے حقوق سے آگاہ اور انصاف کے نام پر دوسروں کا تر نوالہ بننے سے مبرا ہیں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہر جگہ موجود ہیں لیکن بچوں کو اپنی حفاظت کا درس ،والدین کو بچے کے تحفظ کی تلقین اور اجنبیوں سے میل جول میں احتیاط مغربی معاشرے میں جرائم پر قابو پانے کے لئے معاون ثابت ہو رہے ہیں
کئی ڈی پی اوز کے استاد ڈاکٹر طاہر بلال پاکستان کے صوبے پنجاب میں متعارف ہونے والی سی سی ڈی پولیس اور پیرا سے متعلق ناواقف ہیں قتل کے مقدمات میں قانونی موشگافیوں کے باعث حصول انصاف میں غیر سنجیدگی پر ورطہء حیرت ہیں کہ دور جدید میں ابھی تک ان معاملات کا کوئی بہتر حل کیوں نہ نکالا جا سکا
سرزمین پاکستان کے یہ قابل سپوت محکمہء پولیس کے اعلی عہدے پر ہونے کے باوجود دیانت داری سے رزق حلال کما کر اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھے غریب اور مظلوم عوام پر شب خون مارنے سے بہتر ایک غیور پاکستانی کی حیثیت سے غیر ملک سدھار گئے میرے ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہیرے غیر کےتاج کا نگینہ بنتے رہے اور کسی کا وقت پر احساس تک نہ ہوا
کئی ڈی پی اوز اپنے استاد کی روش پر ترقی کر کے ملک ہی میں عوام کے لیے حصول انصاف تک آسان رسائی ممکن بنا سکتے ہیں ملک کو ایسا پرامن بنا سکتے ہیں کہ طاہر بلال جیسے ذہین ذہنوں سے ارض وطن کو سیراب کر سکیں

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں