اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بدھ کے روز قائداعظم یونیورسٹی کی طرف سے ہاسٹلز کی بندش اور سمر سیشن کی منسوخی کے احکامات پر 2 دن کے لیے حکم امتناع جاری کر دیا۔قائد اعظم یونیورسٹی کے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سربراہ انعام خان کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے یونیوسٹی انتظامیہ کو 18 جولائی کے روز عدالت طلب کر لیا۔جبکہ اس وقت تک کے لیے یونیورسٹی کی طرف سے جاری دونوں احکامات پر عمل در آمد سے روک دیا۔

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رکن گورننگ باڈی عبدالصمد خان نے سی این این اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ساجد حسین ایڈووکیٹ اور طاہر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت میں سماعت کے موقع پر ہماری طرف سے وکالت کی۔تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی عدالت حاضر نہیں ہوا۔عبدالصمد خان نے کہا قائم مقام وائس چانسلر نے سنڈیکیٹ کو بائی پاس کر کے ڈینز کے اجلاس میں فیصلے کئے اور غیر قانونی طور پر احکامات جاری کیے۔یونیورسٹی طالب علم، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور اور ہائیر ایجوکیشن کی وزارت مسلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ قائم مقام وائس چانسلر طالب علموں کو مشکلات اور مسائل کا شکار کر کے یونیورسٹی پر اپنی جارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف ڈپٹی چئیرمین سینٹ سیدال خان نے آج قائد اعظم یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ظفر نواز جسپال، سیکریٹری وزارت ہائیر ایجوکیشن اور ڈائیریکٹر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو اپنے دفتر میں طلب کر کےسمر سیشن کی منسوخی اور ہاسٹلز کی بندش کے احکامات روکنے کی ہدایت کی ہے۔قائد اعظم یونیورسٹی میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے وائس چیئرمین داد اللہ دومڑ نے سی این این اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی چییرمین سینٹ نے سینیٹر جان محمد بلیدی کے ہمراہ یونیوسٹی انتظامیہ اور طالب علموں کے مابین تنازع کے حل کے لیے اجلاس منعقد کیا۔سیکریٹری وزارت ہائیر ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائیریکٹر، اورقائداعظم یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ظفر نواز جسپال، چئیرمین سرائیکی سٹوڈنٹ کونسل عدنان جتوئی ، چیئرمین پنجاب سٹوڈنٹس کونسل شیراز حسین،چییرمین گلگت سٹوڈنٹ کونسل
محتشم، وائس چیئرمین مہران سٹوڈنٹ کونسل
مزمل اس اجلاس میں موجود تھے۔
داد اللہ دومڑ نے بتایا کہ اراکین سینٹ اور ڈپٹی چییرمین نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہاسٹلز کی بندش کے احکامات پر عمل در آمد نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔جبکہ سمر سیشن کی منسوخی سے متاثر ہونے والے طلبا و طالبات کی مکمل تفصیلات کے ہمراہ 17 جولائی کو دوبارہ طلب کر لیا۔
سی این این اردو نے یونیورسٹی انتظامیہ سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا تاہم انتظامیہ دستیاب نہ ہو سکی۔واضح رہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے یونیورسٹی ڈینز کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق موسمِ گرما کی تعطیلات کی وجہ سے 31 اگست 2025ء تک تدریسی سرگرمیوں کے لیے بند رہے گی۔اور یونیورسٹی کے تمام ہاسٹلز بھی بند رہیں گے۔

جبکہ اسی اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی کی جانب سے اس بار سمر سیشن آفر نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ طے شدہ ضوابط کے مطابق سمر سیشن آفر کرنا یونیورسٹی کے لیےلازم نہیں ہے۔ جبکہ سمسٹر کے دوران طلبہ کے بے بنیاد مظاہروں کی وجہ سے سمر سیشن کے لیے پانچ ہفتوں سے بھی کم وقت باقی رہ گیا تھا۔ جو ایک بامعنی اور معیاری سمر سیشن کو یقینی بنانے کے لئے کم از کم مطلوبہ تدریسی اوقات سے بہت کم تھا۔
سمسڑر کے اختتام پر یونیورسٹی ہاسٹلز کی عارضی بندش کے حوالے سے یہ واضح کیا گیا کہ موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران ہاسٹلز کو ضروری مرمت، دیکھ بھال اور تزئین و آرائش کے لیے عارضی طور پر خالی کر دیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کے واپس آنے پر ان کی حفاظت، حفظان صحت اور آرام کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات طلبا کے مفادات اور ضروری سہولیات کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔
جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ میٹنگ میں پرووسٹ آفس کی رپورٹ بھی زیر بحث آئی جس کے مطابق طلبہ کے مختلف گروپس کی جانب بوائز ہاسٹلز میں کمروں پر غیر قانونی قبضہ، طلبہ کے مشترکہ استعمال کی جگہوں جن میں ٹی وی روم، راہداری نماز ادا کرنے کے کمروں میں غیر قانونی طور پر رہائشی جگہوں کی تعمیر کی گئی۔ جبکہ حالیہ موسم گرما کے آغاز پر، طلبہ نے مجاز اتھارٹی سے پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر لڑکوں کے ہاسٹلز کے مختلف کمروں میں تقریباً 200 ایئر کنڈیشنر نصب کئے جس سے یونیورسٹی کو کروڑوں روپے کے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا. میٹنگ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انتظامیہ یونیورسٹی میں قانون کی حکمرانی، تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے اور طویل المدتی مالی استحکام کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔