قائد اعظم یونیورسٹی کے طالب علموں نے دعوی کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طالب علموں کے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے رینجرز اور پولیس طلب کر لی ہے۔قائد اعظم یونیورسٹی نے طلبا اور طالبات سے ہاسٹلزخالی کروانے کا آخری نوٹس جاری کر دیا۔سوموار کے روز جاری کردہ نوٹکیفکیشن کے مطابق تمام طلبا اور طالبات کو فوری طور پر ہاسٹلز سے نکل جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طالب علموں کے مطابق یونیورسٹی کے تمام شعبوں کے سربراہان کے آج منعقدہ اجلاس کے بعد یہ نوٹیفکیشن سامنے آیا ہے۔جبکہ اب نتظامیہ کی طرف سے طالب علموں کو انفرادی طور پر فون کالز کر کے ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔
یونیورسٹی کے ڈائریکٹر سکول آف اکنامکس ڈاکٹر جاوید اقبال نے سی این این اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طالب علموں کی طرف سے یونیورسٹی کے قوائد اور ضوابط کی خلاف ورزی پر ہاسٹلز خالی کروانے کا اقدام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہاسٹلز میں مقیم طالب علموں کی بیشتر تعداد غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔یہ غیر قانونی قابض لوگ گزشتہ کئی برسوں سے یہاں مقیم ہیں۔جبکہ دیگر طالب علموں نے بھی قوائد کے خلاف اپنے کمروں میں ائیر کنڈیشنرز لگا رکھے ہیں۔اور ان کا بے دریغ اور بلا ضرورت استعمال بھی جاری ہے۔جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کو 574 ملین روپے کا بجلی کا بل موصول ہوا ہے۔جو کہ یونیورسٹی کے لیے ادا کرناممکن نہیں ہے۔5000 ماہانہ کمرے کی فیس پر یونیورسٹی لاکھوں کے بل کیسے ادا کر سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ اس سال باقاعدہ معمول کی کلاسز کی تکمیل کے لیے تاخیر ہوئی جس کے باعث سمر سیشن منغقد کروانا بھی ممکن نہیں ہے۔سمر سیشن کسی ایک مضمون میں سپلی آنے والے طالب علم کو سہولت دینے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔تاہم انتظامیہ کے علم میں آیا ہے کہ طلبا اور طالبات باقاعدہ کلاسز کے دوران جان بوجھ کر کچھ مضامین کو نظر انداز کرتے ہیں اور بعد ازاں سمر سیشن میں معمول کے اساتذہ کی بجائے سمر سیشن کے لیے نامزد متبادل اساتذہ پر انحصار کر کے دھوکہ دہی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ یونیورسٹی میں لسانی بنیادوں پر پنجابی، پختون، سرائیکی، سندھی، بلوچ اور دیگر سٹوڈنٹس فیڈرینشز قائم کر کے ان فیڈیشنز کے عہدے دار ہاسٹلز کے متعدد کمروں پر خود قابض ہیں۔اور یہ عہدے دار یونیورسٹی کے اندر غیر قانونی تعمیرات کروانے میں بھی ملوث ہیں۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا اب یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے اقدامات اٹھانے پر طلبا اور طالبات پریس کانفرنس کر کے اورذرائع ابلاغ کے ذریعے اس طرح کا تاثر قائم کر رہے ہیں جیسے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کوئی غیر اخلاقی یا غیر قانونی اقدام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ طلبا اور طالبات کی طرف سے غیر قانونی اور غیر اخلاقی مطالبات پر کسی بھی دباو کو قبول نہیں کرے گی۔
یونیورسٹی طلبا عبدااصمد خان اور دیگر نے سی این این اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی انظامیہ نے پولیس اور رینجز کو طلب کر کے بزور طاقت ہاسٹلز خالی کروانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ہم طالب علم قلم اور کتاب لے کر اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ قلم اور کتاب کے مقابلے میں بندوق کو لا رہی ہے۔
انہوں نے کہا 2021 میں کیبنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قائم مقام وائس چانسلر اتنے بڑے فیصلے کرنے کے ہر گز مجاز نہیں ہیں۔قانونی طور پر قائم قائم مقام وائس چانسلر روزہ مرہ کے معمول کے عمل کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
طلبا نے مطالبہ کیا کہ یونیوسٹی طالب علموں سے چھت چھین کر آسمان کے نیچے نکال دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔اور اگر ضروری ہو تو اس عمل کو وائس چانسلر کی واپسی تک موخر کیا جائے۔جبکہ سمر سیشن کو بغیر بیشگی اطلاع منسوخ کرنا بھی طالب علموں کے ساتھ ظلم ہے۔اگر سمر سیشن منسوخ کرنا ہو تو باقاعدہ کلاسز شروع کرتے وقت ہی اس کا اعلان کیا جانا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا طلبا اور طالبات انتظامیہ کے ساتھ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے۔تاہم ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف پر امن مزاحمت جاری رکھیں گے۔
ادھر اسلام آباد پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے قائداعظم یونیورسٹی میں پولیس کو طلب کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ترجمان اسلام آباد پولیس جواد بلوچ نے سی این این این اردو کو بتایا کہ اگر یونیوسٹی انتظامیہ کسی فورس کو طلب کرے گی تو رینجرز کو ہی طلب کرے گی۔ تاہم ان کی طرف سے پولیس کو تا حال طلب نہیں کیا گیا۔