اسلام آباد، 28 جون 2025 – پاکستان نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ہونے والی ایشیا و بحرالکاہل میں شہری رجسٹریشن اور اہم شماریاتی معلومات (CRVS) کی تیسری وزارتی کانفرنس میں اپنی پیش رفت اور مستقبل کا منصوبہ پیش کیا۔
یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UNESCAP) نے UNFPA اور دیگر شراکت دار اداروں کی معاونت سے منعقد کی۔ اس کا مقصد “Getting Everyone in the Picture” اقدام کے تحت علاقائی پیش رفت کا جائزہ لینا اور 2030 تک یونیورسل سول رجسٹریشن کے ہدف کی توثیق کرنا تھا۔

پاکستانی وفد کی قیادت نادرا کے چیئرمین اور رجسٹرار جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے کی، جبکہ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے اشتراک کیا۔ وفد میں نادرا، وزارت داخلہ، وزارت منصوبہ بندی، اور محکمہ صحت سندھ کے اعلیٰ افسران شامل تھے۔
پاکستان نے گزشتہ دہائی کے دوران درج ذیل اہم کامیابیاں پیش کیں:
نادرا کے بایومیٹرک شناختی نظام کے ذریعے 97 فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن۔
165 سے زائد اضلاع میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کی ڈیجیٹل رجسٹریشن۔
بلوچستان، سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں موبائل رجسٹریشن ٹیموں کی تعیناتی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شہری رجسٹریشن محض سرکاری کارروائی نہیں بلکہ بہتر طرز حکمرانی، ترقیاتی منصوبہ بندی اور شہری حقوق کے تحفظ کی بنیاد ہے۔ پاکستانی وفد نے وفاقی اور صوبائی سطح پر اداروں کے درمیان مزید مربوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان نے CRVS انسپشن پلان بھی پیش کیا، جس میں ماڈل اضلاع، ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹمز، اور مقامی حکومتوں، اسپتالوں اور نادرا کے مابین روابط کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ منصوبہ قومی پالیسی کے تحت بایومیٹرک شناخت اور ڈیجیٹل رجسٹریشن ٹولز کی معاونت سے تیار کیا گیا ہے۔
نادرا نے اپنی حالیہ ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات بھی پیش کیے، جن میں ڈیجیٹل شناختی کارڈ اور Pak ID موبائل ایپ شامل ہیں، جو شہریوں کو موبائل فون کے ذریعے رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کرنے کی سہولت دیتی ہے، جس سے یہ نظام زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بن چکا ہے۔
وفد نے موجودہ چیلنجز کو بھی تسلیم کیا، جیسے کہ وفات کی نامکمل رجسٹریشن اور موت کی وجوہات سے متعلق درست معلومات کی کمی۔ ان مسائل کے پیش نظر، پاکستان نے CRVS دہائی کی توسیع کو 2030 تک خوش آئند قرار دیا، تاکہ اصلاحاتی عمل جاری رکھا جا سکے۔
پاکستان نے UNFPA، UNICEF اور UNESCAP کی تکنیکی اور تزویراتی معاونت پر شکریہ ادا کیا، جن کی مدد سے قوانین میں بہتری، عملے کی تربیت، ڈیجیٹل ٹولز کے پائلٹ منصوبے اور ڈیٹا سسٹمز کی مضبوطی ممکن ہوئی۔
مستقبل کے لائحہ عمل میں پاکستان نے مکمل ڈیجیٹل رجسٹریشن نظام کے قیام کی اہمیت پر زور دیا، جو نہ صرف رجسٹر پر مبنی جدید مردم شماری کی بنیاد فراہم کرے گا بلکہ 5Es فریم ورک اور URAAN پاکستان پروگرام جیسے قومی اقدامات کی بھی تکمیل کرے گا۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر شہری کا شمار ہوگا اور ہر زندگی کا اہم واقعہ رجسٹر کیا جائے گا۔ شہری رجسٹریشن شفاف ڈیٹا، قومی وقار اور جامع ترقی کی بنیاد ہے۔