امریکہ کی جانب سے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر ہفتے کے روز کیے گئے فضائی حملے نے صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ انسانی برداشت کی بھی انتہا دکھا دی۔ سات B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے، جن میں دو دو پائلٹس سوار تھے، مسلسل 37 گھنٹوں تک بغیر رکے اڑتے رہے — جو جدید جنگی تاریخ کے طویل ترین مشنز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
سی این این کے مطابق، 125 سے زائد طیارے اس آپریشن میں شامل تھے، جن میں ایندھن فراہم کرنے والے جہاز، لڑاکا طیارے اور جاسوس طیارے شامل تھے۔ کچھ بمبار مشرق کی جانب ایران پر براہِ راست حملے کے لیے روانہ ہوئے، جبکہ دیگر مغرب کی طرف روانہ ہوکر دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دینے کے لیے بھیجے گئے۔ ساتوں بمبار طیاروں نے مختلف اہداف پر محض 30 منٹ کے اندر بمباری مکمل کی۔
سابق پائلٹ کرنل میلون ڈیئل، جنہوں نے 2001 میں افغانستان پر 44 گھنٹوں کا مشن مکمل کیا تھا، نے اس آپریشن کو “ناقابل یقین کارنامہ” قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ طویل مشن میں پائلٹس کس طرح چھوٹے وقفوں میں سوتے ہیں، “گو پِلز” (دماغ کو بیدار رکھنے والی ادویات) لیتے ہیں، کم خوراک کھاتے ہیں، اور “پِڈل پیک” (پیشاب کے لیے بیگ) استعمال کرتے ہیں۔
یہ مشن ایک اور لحاظ سے تاریخی تھا: پہلی بار امریکہ نے 30,000 پاؤنڈ وزنی GBU-57 بم (“بنکر بسٹر”) حقیقی جنگ میں استعمال کیے۔ صرف B-2 بمبار ہی ان بموں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنہیں ایران کے زیر زمین جوہری اہداف کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے مشنز صرف تربیت یافتہ پائلٹس ہی نہیں، بلکہ غیر معمولی ذہنی و جسمانی طاقت کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔ پائلٹس کے لیے سب سے بڑا انعام اس وقت تھا جب وہ واپس امریکی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور ایئر کنٹرولر کی طرف سے “ویلکم ہوم” کی آواز سنی۔