امریکہ کا ایران پر فضائی حملہ، جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے حساس جوہری مراکز پر “انتہائی کامیاب” حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق، ان حملوں میں فردو، نطنز اور اصفہان میں قائم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا:
“ہماری عظیم امریکی فوج نے فردو نیوکلیئر سائٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اور اب تمام امریکی طیارے بحفاظت ایران کی فضائی حدود سے باہر آ چکے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی امریکا، اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ایک “تاریخی لمحہ” ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایران اس جنگ کے خاتمے پر آمادہ ہو.

امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں امریکا کے بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیارے استعمال کیے گئے، جنہوں نے جوہری مراکز پر براہِ راست بمباری کی۔

ایران کی تصدیق اور ردعمل

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق، قم شہر کے رہائشیوں نے شہر کے نواح میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ قم کے قریب واقع فردو نیوکلیئر پلانٹ کو پہاڑ کے اندر تعمیر کیا گیا ہے، اور یہ ایران کی اہم ترین جوہری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔

فارس نیوز کے مطابق یہ دھماکے اُس وقت سنائی دیے جب ایرانی فضائی دفاعی نظام کو متحرک کر دیا گیا۔

تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ حملے کے باوجود قم اور اردگرد کے علاقوں میں شہریوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ایران کی قومی جوہری سلامتی کے مرکز نے کہا ہے کہ فردو تنصیب کے آس پاس تابکاری کے اثرات کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

قم میں کرائسس منیجمنٹ کمیٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے:
“یورینیم افزودگی کے لیے قائم فردو جوہری مرکز کے اردگرد تابکاری کے پھیلاؤ کے کوئی آثار ریکارڈ پر نہیں آئے، اور شہریوں کو کسی قسم کے صحت کے خطرے کا سامنا نہیں۔”

ایران کے ایک رکن پارلیمان، جن کا تعلق قم سے ہے، نے بھی ابتدائی تحقیقاتی نتائج کی بنیاد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق:
“زیرِ زمین تنصیبات کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، زیادہ تر نقصان سطحی ڈھانچوں تک محدود ہے جو قابلِ مرمت ہے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔”

ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کو جاری رکھے گی۔
“دشمنوں کی سازشوں کے باوجود، ایران اپنی جوہری صنعت کی ترقی جاری رکھے گا، جو ہمارے جوہری شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے۔”

تاحال ایران کی جانب سے جوابی کارروائی یا کسی ممکنہ ردعمل کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں