ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور ممکنہ مکمل جنگ کے پیش نظر خلیجی عرب ریاستوں نے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ خطے میں عدم استحکام کے خدشے اور ایران کے ممکنہ داخلی بحران کے اثرات سے بچنے کے لیے امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر ممالک نے تہران اور واشنگٹن سے براہِ راست رابطے بڑھا دیے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ “ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ہماری سفارتی کوششیں بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔ خطے کے پیچیدہ مسائل کا حل صرف بات چیت اور امن سے ممکن ہے، طاقت کا استعمال ہر چیز کو تباہ کر دے گا۔”
سی این این کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے حملے کے بعد، جس میں ایرانی عسکری قیادت اور جوہری سائنسدان ہلاک ہوئے، ایران نے جوابی طور پر اسرائیلی شہروں پر میزائل برسائے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کو فوری ردعمل پر مجبور کر دیا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کے روز کہا:
“ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تمام ممکنہ روابط قائم کیے ہیں تاکہ اس بحران کو قابو سے باہر ہونے سے روکا جا سکے۔ ہم سب ایک محفوظ راستے کی تلاش میں ہیں۔”
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ ٹرمپ، جو حال ہی میں اپنے دوسرے صدارتی دورے میں خلیج کے تین ممالک کے دورے پر آئے تھے، نے پہلے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی امید ظاہر کی تھی۔ لیکن اسرائیلی حملے کے بعد ان کا لہجہ سخت ہو گیا اور انہوں نے امریکی فوجی مداخلت کے امکان کا اشارہ بھی دیا۔
خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے جو ان کے ممالک میں تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی عالمی رسد بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو یہ تنازعہ ایک طویل، تباہ کن جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے نتائج عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ریاستیں ایک مستحکم، لیکن کمزور ایران کو ایک تقسیم شدہ، غیر مستحکم ایران پر ترجیح دیتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں دو ہفتوں کی سفارتی مہلت کا اعلان کیا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کی کوششیں کی جا سکیں۔ خلیجی ریاستوں کو امید ہے کہ یہ موقع انہیں خطے کو مکمل جنگ سے بچانے میں مدد دے گا۔