فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر وائٹ ہاؤس کے سامنے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے، چہرے پر مسکراہٹ اور پُراعتماد انداز

ہم صرف دس فیصد طاقت دکھا سکے، باقی دنیا کے لیے کافی تھا”واشنگٹن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُراعتماد انداز

واشنگٹن ڈی سی – امریکہ کے سرکاری دورے پر آئے پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کے باہر موجود غیر ملکی صحافیوں کے تندو تیز سوالات کا پُراعتماد انداز میں جواب دیا، جس سے نہ صرف ان کی قیادت کا انداز نمایاں ہوا بلکہ پاکستان کی عسکری پوزیشن کا واضح پیغام بھی دنیا کو ملا۔

ایک صحافی نے سوال کیا
“ان نازک حالات میں آپ کے دورۂ امریکہ کا مقصد کیا ہے؟”
جنرل عاصم مسکراتے ہوئے بولے:
“میں تو دعوت پر آیا ہوں، یہ سوال آپ کو اُن سے پوچھنا چاہیے جنہوں نے دعوت دی۔”

ایک اور صحافی نے قدرے طنزیہ انداز میں کہا:
“آپ کو ان حالات میں ملک نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔”
جنرل نے حیرت سے پوچھا:
“کیوں؟ کیا ہوا میرے ملک کو؟”

صحافی بولا:
“آپ کا ملک حالتِ جنگ میں ہے، بھارت کسی بھی وقت دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔”

اس پر جنرل عاصم نے مسکرا کر کہا:
“جنگ تو کب کی ختم ہو چکی۔ ہم فتح کا جشن بھی منا چکے اور اب آگے بڑھ چکے ہیں۔ بھارت یا دنیا کا کوئی بھی ملک اب پاکستان پر حملے کا سوچے گا بھی نہیں۔ اور یہ جان لیجیے، ہمیں تو ابھی صرف اپنی دس فیصد صلاحیت اور ٹیکنالوجی دکھانے کا موقع ملا تھا، پھر بھی جنگ ختم ہو گئی۔”

بی بی سی کے نمائندے نے پوچھا:
“آپ یہاں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟”

جنرل نے پھر وہی جواب دہرایا:
“میں تو دعوت پر آیا ہوں۔ یہ سوال دعوت دینے والوں سے پوچھا جائے کہ وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔”

اسی دوران CNN کا صحافی بولا:
“آپ کا لہجہ خاصا بلند ہے، کیا یہ بھارت پر فتح کا اثر ہے؟”

جنرل نے ہنستے ہوئے بات کاٹی اور کہا:
“میں تو صرف آپ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوں، آپ خود طے کر رہے ہیں کہ میں کہاں سے بول رہا ہوں۔”

سی این این رپورٹر نے سنجیدگی سے کہا:
“آپ کی باتوں سے ایک خاص تاثر پھیل رہا ہے، مسٹر فیلڈ مارشل!”

اس پر جنرل عاصم نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا:
“یہ تاثر کہاں پھیل رہا ہے؟ کیسے پھیل رہا ہے؟ اور یہاں کھڑے کھڑے آپ کو کس نے بتایا کہ ایسا تاثر پھیل رہا ہے؟”

صحافی کوئی جواب نہ دے سکا، تو فیلڈ مارشل مسکرا کر بولے:
“تاثر صرف آپ پر پڑ رہا ہے، اور آپ کو لگ رہا ہے کہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔”

یہ کہہ کر جنرل آگے بڑھ گئے، اور پیچھے صرف صحافیوں کی خاموشی باقی رہ گئی۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں