اسلام آباد منگل کے روز اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے خلاف منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ایران کے سفیر کہا کہ اسرائیل نے اچانک حملہ کر ایرانی فوجی قیادت کے ہمراہ بے معصوم بچوں اور خواتین کو شہید کیا۔ ایران کو اسرائیل کے حملے کرنے کے ارادے کا علم تھا۔تاہم ایران 16 جون یا اس کے بعد حملے کی توقع کر رہا تھا۔تاہم جس وقت اسرائیل نے جارحیت کی اس وقت ایران ریڈ الرٹ نہ تھا۔جس کے نپیجے میں ابتدائی طور پر ایران کو کچھ نقصان اٹھانا پڑا
ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سیمینار کے انعقادپر پاکستانی صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوموں اور مقاومت کی آواز بنتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ کسی بھی باوقار مسلم ملک کو برداشت نہیں کر سکتا جو اس کے سامنے کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن اس بہانے سے ایران پر حملہ کیا گیا تاکہ اُسے کمزور کیا جا سکے۔ “مگر ایران نہ جھکے گا، نہ پیچھے ہٹے گا، ان شاء اللہ کامیابی ایران کی ہوگی۔”
رضا امیری مقدم نے کہا شام میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہے جو کہ امریکہ اور اس کے حواریوں سے رابطے کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان، تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انصار اللہ کے نائب سربراہ برائے میڈیا نصر الدین عامر نے کہا کہ اسرائیل بظاہر اکیلا ہے لیکن درحقیقت اس کے پیچھے امریکہ اور یورپ کی مکمل پشت پناہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہو کر، اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے انکار کر کے ایک عظیم قیمت چکائی ہے، لیکن جو مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہو، اللہ کی مدد بھی اسی کے ساتھ ہوتی ہے۔ انہوں نے غزہ کی مقاومت اور ایران کی جوابی کارروائیوں کو اللہ کے راستے میں جہاد قرار دیا۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایران اسرائیل تنازع کو حق و باطل کی جنگ قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں ایران نے عراق کی طرف سے مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ کا بھی کامیابی سے مقابلہ کیا، اور اب بھی کامیابی ایران ہی کی ہوگی۔